سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : الغيرة
باب: غیرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3409
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُلَيْتٍ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ، فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَفَّارَتِهِ، فَقَالَ:" إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 91 (3568)، مسند احمد 6/148، 277 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥جسرة بنت دجاجة العامرية جسرة بنت دجاجة العامرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | مقبول | |
👤←👥أفلت بن خليفة العامري، أبو حسان أفلت بن خليفة العامري ← جسرة بنت دجاجة العامرية | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أفلت بن خليفة العامري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3409
| إناء كإناء وطعام كطعام |
سنن أبي داود |
3568
| إناء مثل إناء وطعام مثل طعام |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3409 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3409
اردو حاشہ:
”کھانے کے بدلے کھانا“ اگر کھانا ضائع ہوگیا ہو۔ بعض کھانے برتن ٹوٹنے سے ضائع ہوجاتے ہیں‘ بعض ضائع نہیں ہوتے۔ حدیث:3407 میں مذکورہ واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا ضائع نہیں ہوا تھا کیونکہ بعد میں کھانے کا ذکر ہے‘ نیز وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ضائع ہونے کی صورت میں آپ عوض لیں یا نہ لیں‘ یہ آپ کی مرضی ہے۔ کھانا واپس تو نہیں بھیجنا تھا۔
”کھانے کے بدلے کھانا“ اگر کھانا ضائع ہوگیا ہو۔ بعض کھانے برتن ٹوٹنے سے ضائع ہوجاتے ہیں‘ بعض ضائع نہیں ہوتے۔ حدیث:3407 میں مذکورہ واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا ضائع نہیں ہوا تھا کیونکہ بعد میں کھانے کا ذکر ہے‘ نیز وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ضائع ہونے کی صورت میں آپ عوض لیں یا نہ لیں‘ یہ آپ کی مرضی ہے۔ کھانا واپس تو نہیں بھیجنا تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3409]
جسرة بنت دجاجة العامرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق