سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ : عِدَّةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3544
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي: أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ:" وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ حَلَلْتِ".
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان اس عورت (کی عدت) کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے چند ہی راتوں بعد بچہ جنے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس عدت کی مدت زیادہ ہو گی اس پر عمل کرے گی اور ابوسلمہ نے کہا: جب بچہ پیدا ہو جائے گا تو وہ حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی (وہاں) پہنچ گئے (اور باتوں میں شریک ہو گئے) انہوں نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ساتھ ہوں (یعنی میری بھی وہی رائے ہے جو ابوسلمہ کی ہے) پھر ان سبھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو (ام المؤمنین) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا وہ پوچھ کر ان لوگوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چند راتوں بعد بچہ جنا پھر اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ نے فرمایا: ”تو حلال ہو چکی ہے (جس سے بھی تو شادی کرنا چاہے کر سکتی ہے)“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3544]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کا اس عورت کے بارے میں اختلاف ہو گیا جسے اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچہ پیدا ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے دونوں میں سے بعد والی عدت گزارنی ہو گی۔ حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ اتنے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ وہ فرمانے لگے: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی تائید کرتا ہوں۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب کو سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ انہوں نے فرمایا ہے: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچہ جن دیا تھا اور انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری عدت ختم ہو گئی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 41ش35 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3723
| أمرها أن تتزوج |
جامع الترمذي |
1194
| أمرها أن تتزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3539
| حللت فانكحي من شئت |
سنن النسائى الصغرى |
3540
| حللت فانكحي من شئت |
سنن النسائى الصغرى |
3541
| وضعت بعد وفاة زوجها بعشرين ليلة فأمرها أن تزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3542
| وضعت سبيعة الأسلمية بعد وفاة زوجها بيسير فاستفتت رسول الله فأمرها أن تتزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3543
| وضعت سبيعة بعد وفاة زوجها بأيام فأمرها رسول الله أن تزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3544
| ولدت سبيعة بعد وفاة زوجها بليال فذكرت ذلك لرسول الله فقال قد حللت |
سنن النسائى الصغرى |
3545
| وضعت بعد وفاة زوجها بأيام فأمرها رسول الله أن تتزوج |
Sunan an-Nasa'i Hadith 3544 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← أم سلمة زوج النبي