سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر النعمان بن بشير في النحل
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3707
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بَشِيرٍ أَنَّهُ نَحَلَ ابْنَهُ غُلَامًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ ذَا , قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ".
بشیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے لوٹا لو“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3707]
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو غلام تحفے میں دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تحفے پر گواہ بنا لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے پوری اولاد کو ایسے تحفے دیے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے بھی واپس کر۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3705 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 3707 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← بشير بن سعد الأنصاري