سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : الحلف بالطواغيت
باب: طاغوت اور جھوٹے معبودوں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3805
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں (جھوٹے معبودوں) کی“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3805]
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے آبا و اجداد اور بتوں کی قسمیں نہ کھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 2 (1648)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2095)، (تحفة الأشراف: 9697)، مسند احمد (5/62) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن سمرة القرشي، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري | ثقة حافظ | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة متقن | |
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين أحمد بن سليمان الرهاوي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3805
| لا تحلفوا بآبائكم ولا بالطواغيت |
صحيح مسلم |
4262
| لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم |
سنن ابن ماجه |
2095
| لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3805 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3805
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3800۔
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3800۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3805]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2095
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت۔
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2095]
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2095]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
(طواغي)
کا واحد (طاغیة)
ہے، یعنی سرکش۔
بت کو طاغیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بندوں کے شرک اور سرکشی کا باعث بنتا ہے۔
(2)
بت کی قسم اصل میں اس شخص کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کھائی جاتی ہے جس کی صورت پر وہ بت بنایا گیا ہے، اس طرح یہ بھی اصل میں بزرگوں اور پیروں کی قسم ہے۔
اور غیراللہ کی قسم حرام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
(طواغي)
کا واحد (طاغیة)
ہے، یعنی سرکش۔
بت کو طاغیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بندوں کے شرک اور سرکشی کا باعث بنتا ہے۔
(2)
بت کی قسم اصل میں اس شخص کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کھائی جاتی ہے جس کی صورت پر وہ بت بنایا گیا ہے، اس طرح یہ بھی اصل میں بزرگوں اور پیروں کی قسم ہے۔
اور غیراللہ کی قسم حرام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2095]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4262
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتوں اور اپنے باپوں کی قسم نہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4262]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
طاغیہ سے مراد صنم اور بت ہے،
کیونکہ،
وہ کفار کے شرک و سرکشی کا سبب ہے،
اور طغیان کا معنی حدود سے تجاوز کرنا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿لَمَّا طَغَى الْمَاءُ﴾ جب پانی حد سے بڑھ گیا،
اس لیے اس کا اطلاق تمام معبودان باطلہ پر ہو جاتا ہے،
اس لیے ضلالت کا ہر سرغنہ طاغیہ ہے،
مقصود یہی ہے،
معبودان باطلہ کی قسم نہ اٹھاؤ،
اور قسم کی تین قسمیں ہیں۔
(1)
يمين غموس:
شعوری طور پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا ہے،
جو انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
(2)
يمين لغو:
یعنی وہ قسم جو انسان کی زبان پر چڑھی ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے،
یا انسان اپنے شعور اور علم کے مطابق سچی قسم اٹھائے،
جبکہ درحقیقت،
وہ جھوٹی ہو،
(3)
يمين منعقده:
آئندہ زمانہ یا مستقبل کے بارے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا،
اس کا پورا کرنا ضروری ہے،
اگر گناہ نہ ہو،
وگرنہ کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
طاغیہ سے مراد صنم اور بت ہے،
کیونکہ،
وہ کفار کے شرک و سرکشی کا سبب ہے،
اور طغیان کا معنی حدود سے تجاوز کرنا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿لَمَّا طَغَى الْمَاءُ﴾ جب پانی حد سے بڑھ گیا،
اس لیے اس کا اطلاق تمام معبودان باطلہ پر ہو جاتا ہے،
اس لیے ضلالت کا ہر سرغنہ طاغیہ ہے،
مقصود یہی ہے،
معبودان باطلہ کی قسم نہ اٹھاؤ،
اور قسم کی تین قسمیں ہیں۔
(1)
يمين غموس:
شعوری طور پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا ہے،
جو انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
(2)
يمين لغو:
یعنی وہ قسم جو انسان کی زبان پر چڑھی ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے،
یا انسان اپنے شعور اور علم کے مطابق سچی قسم اٹھائے،
جبکہ درحقیقت،
وہ جھوٹی ہو،
(3)
يمين منعقده:
آئندہ زمانہ یا مستقبل کے بارے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا،
اس کا پورا کرنا ضروری ہے،
اگر گناہ نہ ہو،
وگرنہ کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4262]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3805 in Urdu
الحسن البصري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي