سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : من حلف فاستثنى
باب: قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3824
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى , فَإِنْ شَاءَ مَضَى , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3824]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھاتے وقت «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دے، وہ چاہے تو قسم کو پورا کرے اور چاہے تو چھوڑ دے، اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 11 (3261، 3262)، سنن الترمذی/الأیمان 7 (1531)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 6 (2105)، (تحفة الأشراف: 7517)، مسند احمد (2/6، 10، 48، 49، 126، 127، 153، سنن الدارمی/النذور والأیمان 7 (2387، 2388)، ویأتي عند المؤلف فی باب 39 بأرقام: 3860، 3861 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہیں ہو گا اس لیے کہ اس کی قسم اللہ کی مرضی (مشیت) پر معلق و منحصر ہو گئی، اسی لیے وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1531
| حلف على يمين فقال إن شاء الله فقد استثنى فلا حنث عليه |
سنن أبي داود |
3261
| من حلف على يمين فقال إن شاء الله فقد استثنى |
سنن أبي داود |
3262
| من حلف فاستثنى فإن شاء رجع وإن شاء ترك غير حنث |
سنن ابن ماجه |
2106
| من حلف واستثنى فلن يحنث |
سنن ابن ماجه |
2105
| من حلف واستثنى إن شاء رجع وإن شاء ترك غير حانث |
سنن النسائى الصغرى |
3824
| من حلف فاستثنى فإن شاء مضى وإن شاء ترك غير حنث |
سنن النسائى الصغرى |
3859
| من حلف فقال إن شاء الله فقد استثنى |
سنن النسائى الصغرى |
3860
| من حلف فقال إن شاء الله فقد استثنى |
سنن النسائى الصغرى |
3861
| من حلف على يمين فقال إن شاء الله فهو بالخيار إن شاء أمضى وإن شاء ترك |
بلوغ المرام |
1174
| من حلف على يمين فقال : إن شاء الله فلا حنث عليه |
مسندالحميدي |
707
|
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3824 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3824
اردو حاشہ:
(1) انشاء اللہ کے معنیٰ ہیں: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ ان لفظوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قسم کھانے والے نے حتمی قسم نہیں کھائی۔ گویا اگر یہ کام کرسکا تو کرے گا ورنہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چاہا‘ لہٰذا یہ کام نہ ہوسکا۔ ظاہر ہے اس پر گناہ کیونکر آئے گا؟ البتہ وعدہ وغیرہ میں ان شاء اللہ کو وعدہ خلافی کے لیے بہانا نہیں بنایا جاسکتا بلکہ صرف تبرکاً ہی پڑھنا چاہیے ورنہ وعدے کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
(2) ”ان شاء اللہ“ ان الفاظ کا ظاہراً کہنا مقصود ہے۔ اگر کوئی نیت میں ”ان شاء اللہ“ کہے گا تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قسم کا انعقاد ظاہری الفاظ سے ثابت ہوتا ہے نیت سے نہیں۔
(1) انشاء اللہ کے معنیٰ ہیں: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ ان لفظوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قسم کھانے والے نے حتمی قسم نہیں کھائی۔ گویا اگر یہ کام کرسکا تو کرے گا ورنہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چاہا‘ لہٰذا یہ کام نہ ہوسکا۔ ظاہر ہے اس پر گناہ کیونکر آئے گا؟ البتہ وعدہ وغیرہ میں ان شاء اللہ کو وعدہ خلافی کے لیے بہانا نہیں بنایا جاسکتا بلکہ صرف تبرکاً ہی پڑھنا چاہیے ورنہ وعدے کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
(2) ”ان شاء اللہ“ ان الفاظ کا ظاہراً کہنا مقصود ہے۔ اگر کوئی نیت میں ”ان شاء اللہ“ کہے گا تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قسم کا انعقاد ظاہری الفاظ سے ثابت ہوتا ہے نیت سے نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3824]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1174
(قسموں اور نذروں کے متعلق احادیث)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کسی کام پر قسم کھائے اور ساتھ ہی «إن شاء الله» کہے تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1174»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کسی کام پر قسم کھائے اور ساتھ ہی «إن شاء الله» کہے تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1174»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأيمان والنذور، باب الاستثناء في اليمين، حديث:3261، والترمذي، النذور والأيمان، حديث:1531، والنسائي، الأيمان والنذور، حديث:3824، وابن ماجه، الكفارات، حديث:2105، 2106، وأحمد:2 /10، وابن حبان (الموارد)، حديث:1183، 1184.» تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر قسم کھانے والا ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ دے تو وہ قسم توڑنے کا مرتکب کہلائے گا نہ اس پر کفارہ لازم ہوگاکیونکہ قسم کو جب مشیت الٰہی سے مقید کر دیا جائے تو بالاتفاق وہ قسم منعقد نہیں ہوتی۔
«أخرجه أبوداود، الأيمان والنذور، باب الاستثناء في اليمين، حديث:3261، والترمذي، النذور والأيمان، حديث:1531، والنسائي، الأيمان والنذور، حديث:3824، وابن ماجه، الكفارات، حديث:2105، 2106، وأحمد:2 /10، وابن حبان (الموارد)، حديث:1183، 1184.»
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر قسم کھانے والا ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ دے تو وہ قسم توڑنے کا مرتکب کہلائے گا نہ اس پر کفارہ لازم ہوگاکیونکہ قسم کو جب مشیت الٰہی سے مقید کر دیا جائے تو بالاتفاق وہ قسم منعقد نہیں ہوتی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1174]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3262
قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3262]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3262]
فوائد ومسائل:
چونکہ تمام امور اللہ عزوجل کی مشیت سے پورے ہوتے ہیں۔
اس لئے قسم میں بھی حسن ادب یہ ہے کہ مستقبل کے امور میں (ان شاء اللہ)کہہ لے۔
اس طرح قسم کھانے کی صورت میں اگر کام نہ ہوسکا تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔
لیکن اگر قسم کھانے والا مخالفت کی نیت رکھتے ہوئے محض اپنے مخاطب کوتسلی دینے کےلئے (ان شاء اللہ) کہتا ہے۔
تو یہ بہت بڑا گنا ہ ہے۔
(انما الاعمال بالنیات)
چونکہ تمام امور اللہ عزوجل کی مشیت سے پورے ہوتے ہیں۔
اس لئے قسم میں بھی حسن ادب یہ ہے کہ مستقبل کے امور میں (ان شاء اللہ)کہہ لے۔
اس طرح قسم کھانے کی صورت میں اگر کام نہ ہوسکا تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔
لیکن اگر قسم کھانے والا مخالفت کی نیت رکھتے ہوئے محض اپنے مخاطب کوتسلی دینے کےلئے (ان شاء اللہ) کہتا ہے۔
تو یہ بہت بڑا گنا ہ ہے۔
(انما الاعمال بالنیات)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3262]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2106
قسم میں ان شاءاللہ کہنے کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قسم کھائی اور «إن شاء الله» کہا، وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2106]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قسم کھائی اور «إن شاء الله» کہا، وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2106]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا۔
إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ﴾ (الکہف: 18؍23، 24)
”کسی کام کے بارے میں اس طرح ہر گز نہ کہیں کہ میں اسے کل کروں گا (بلکہ ساتھ یہ بھی کہیں)
مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“
اس لیے ان شاء اللہ کہنے کو استثناء بھی کہتے ہیں۔
اس سے اللہ پر اعتماد کا اظہار ہے کہ جو کچھ ہوگا اس کی توفیق سے ہوگا۔
(2)
قسم کے ساتھ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میرا پکا ارادہ تو یہی ہے کہ فلاں کام کروں گا لیکن اگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہوا اور مجھے کوئی عذر پیش آ گیا تو پھر یہ کام نہیں ہو سکے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا۔
إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ﴾ (الکہف: 18؍23، 24)
”کسی کام کے بارے میں اس طرح ہر گز نہ کہیں کہ میں اسے کل کروں گا (بلکہ ساتھ یہ بھی کہیں)
مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“
اس لیے ان شاء اللہ کہنے کو استثناء بھی کہتے ہیں۔
اس سے اللہ پر اعتماد کا اظہار ہے کہ جو کچھ ہوگا اس کی توفیق سے ہوگا۔
(2)
قسم کے ساتھ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میرا پکا ارادہ تو یہی ہے کہ فلاں کام کروں گا لیکن اگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہوا اور مجھے کوئی عذر پیش آ گیا تو پھر یہ کام نہیں ہو سکے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2106]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1531
قسم میں ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاءاللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1531]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاءاللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1531]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کی رو سے قسم کھانے والا ساتھ ہی اگر ”إن شاء اللہ“ کہہ دے تو ایسی قسم توڑنے پر کفارہ نہیں ہوگا،
کیوں کہ قسم کو جب اللہ کی مشیئت پر معلق کردیا جائے تووہ قسم منعقد نہیں ہوئی،
اورجب قسم منعقد نہیں ہوئی تو توڑنے پر اس کے کفارہ کا کیا سوال؟۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کی رو سے قسم کھانے والا ساتھ ہی اگر ”إن شاء اللہ“ کہہ دے تو ایسی قسم توڑنے پر کفارہ نہیں ہوگا،
کیوں کہ قسم کو جب اللہ کی مشیئت پر معلق کردیا جائے تووہ قسم منعقد نہیں ہوئی،
اورجب قسم منعقد نہیں ہوئی تو توڑنے پر اس کے کفارہ کا کیا سوال؟۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1531]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3824 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي