🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : تحريم الدم
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ تَحْرُمُ دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا".
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (جب وہ اس کی گواہی دے دیں گے تو) پھر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہو جائیں گے مگر اس کے (جان و مال کے) حق کے بدلے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3985 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أوس بن أبي أوس الثقفي، أبو إياسصحابي
👤←👥عمرو بن أوس الطائي
Newعمرو بن أوس الطائي ← أوس بن أبي أوس الثقفي
ثقة
👤←👥النعمان بن سالم الطائفي
Newالنعمان بن سالم الطائفي ← عمرو بن أوس الطائي
ثقة
👤←👥حاتم بن أبي صغيرة القشيري، أبو يونس
Newحاتم بن أبي صغيرة القشيري ← النعمان بن سالم الطائفي
ثقة
👤←👥عبد الله بن بكر الباهلي، أبو محمد، أبو حبيب، أبو وهب
Newعبد الله بن بكر الباهلي ← حاتم بن أبي صغيرة القشيري
ثقة
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← عبد الله بن بكر الباهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3929
أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا فعلوا ذلك حرم علي دماؤهم وأموالهم
سنن النسائى الصغرى
3987
أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها حرمت دماؤهم وأموالهم إلا بحقها
سنن النسائى الصغرى
3988
أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ثم تحرم دماؤهم وأموالهم إلا بحقها
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3988 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3988
اردو حاشہ:
قابل احترام ہو جاتے ہیں نہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے نہ زخمی، نہ ان کی بے عزتی کی جا سکتی ہے اور نہ ان کا مال ان کی مرضی کے بغیر لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر ان کے ذمے کسی کا حق بنتا ہو تو وہ انہیں ادا کرنا ہو گا، مثلاً: انہوں نے کسی کو قتل یا زخمی کیا ہو تو انہیں قصاص یا دیت دینی پڑے گی۔ اسی طرح ان کے ذمے کسی کا مالی حق واجب الادا ہے تو وہ حکومت زبردستی بھی دلائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3988]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3929
کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا۔
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جا کر قتل کر دو، جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: کیا تم «لا إله إلا الله» کہتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لا إ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3929]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی کرنے والے کی بات سے یہ سمجھا کہ یہ شخص دل سے مسلمان نہیں بعد میں اس کے ظاہری اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اسے چھوڑدیا۔
امام سیوطی ؒ اس کی بابت لکھتے ہیں:
زیادہ صحیح تشریح یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی کہ کسی سے اس کی دلی کیفیات کے مطابق سلوک کریں، چنانچہ اس کے مطابق عمل کرنے کا ارادہ فرمایا (کفر کی بنا پر قتل کرنا چاہا)
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہتر محسوس ہوئی کہ ظاہر پرعمل کیاجائے (اس کے ظاہری اسلام کی وجہ سے مسلمانوں والا سلوک کیاجائے)
کیونکہ یہ قانون نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور امت سب کے لیے ہے اس لیے آپ اس طرف مائل ہوگئے اور باطن (کی حقیقی کیفیت)
کے مطابق عمل سےاجتناب فرمایا۔ (شرح سنن نسائي كتاب تحريم الدم)

(2)
سنن نسائی کے اس باب میں حضرت اوس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی مروی ہے۔
حضرت اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں قبیلہ ثقیف کے وفد میں شامل ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔
میں خیمے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔
میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا خیمے کے سب افراد سوگئے۔ (اس تنہائی کے وقت)
ایک آدمی نے آ کر چپکے سے بات کی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا اسے قتل کردے۔
پھر فرمایا:
کیا وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کی اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا:
گواہی دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسے چھوڑدے۔
پھر آپ نے فرمایا:
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتی کہ وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کہیں۔
جب وہ اس کا اقرار کر لیں توا ن کے خون اور ان کے مال (مسلمانوں پر)
حرام ہوگئے مگر اس حق کے ساتھ۔ (سنن نسائي، المحاربة، باب تحريم الدم، حديث: 3987)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3929]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3988 in Urdu