سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : بيعة النساء
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4184
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَرَدْتُ، أَنْ أُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَأَذْهَبُ فَأُسْعِدُهَا ثُمَّ أَجِيئُكَ فَأُبَايِعُكَ؟، قَالَ:" اذْهَبِي فَأَسْعِدِيهَا"، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ فَسَاعَدْتُهَا ثُمَّ جِئْتُ فَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنی چاہی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک عورت نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ (سوگ منانے) میں میری مدد کی تھی تو مجھے اس کے یہاں جا کر نوحہ میں اس کی مدد کرنی چاہیئے، پھر میں آ کر آپ سے بیعت کر لوں گی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اس کی مدد کرو“، چنانچہ میں نے جا کر اس کی مدد کی، پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18099)، مسند احمد (6/408) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بیعت کے بعد وہ نوحہ میں مدد نہیں کر سکتی تھیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی صراحت آ رہی ہے، یہ اجازت صرف ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھی اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو یہ حق نہیں کہ شریعت کے کسی حکم کو کسی کے لیے خاص کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطية | صحابية | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أم عطية الأنصارية | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله محمد بن منصور الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4184 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4184
اردو حاشہ:
(1) ترجمۃ الباب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے کہ عورتوں سے بیعت لینا مشروع ہے جیسا کہ خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تھی۔
(2) حدیث سے معلوم ہوا کہ نوحہ کرنا حرام اور ناجائز ہے، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔ شرعاََ یہ بہت قبیح کام ہے، اس لیے اس سے روکنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر اس سلسلے میں ڈانٹ ڈپٹ سے کام لینا پڑے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بابت منقول ہے کہ وہ کسی کی وفات پر اگر کسی کو غلط انداز میں اور غیر شرعی رونا روتے دیکھتے تو اسے پتھر وغیرہ مارتے اور اس رونے والے شخص کے منہ میں مٹی ٹھونستے۔ دیکھیے: حرمت نوحہ کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلاََ: یہ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے، غم زیادہ اور صبر نہ کرنے کا سبب بنتا ہے، نیز نوحہ کرنے سے اﷲ تعالیٰ کی قضا و قدر کی مخالفت اور اس پر عدم رضا لازم آتی ہے۔
(3) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جب چاہیں اور جس کے لیے چاہیں عام قانون میں تخصیص فرما دیں جس طرح کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے لیے تخصیص کی گئی۔
(4) ”ایک عورت نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی“ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی گھر کوئی میت ہوتی تو دوسری عورتیں باری باری اس کے گھر کی عورتوں سے مل کر جھوٹ موٹ کرتیں اور زبانی رونا روتیں۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بیعت کرنے لگیں تو آپ نے بیعت کے وقت نوحہ نہ کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔ ان کو خیال آیا کہ فلاں عورت نےتو نوحہ میں میری مدد کی تھی۔ اور جاہلیت میں اس مدد کو بھی لین دین کی طرح سمجھا جاتا تھا اور اس کا باقاعدہ مطالبہ ہوتا تھا۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو خطرہ ہوا کہ کل کلاں وہ عورت آکر مجھ سے بدلے کا مطالبہ کرے گی، اس لیے مجھے بیعت سے پہلے ہی بدلہ چکا دینا چاہیے۔
(1) ترجمۃ الباب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے کہ عورتوں سے بیعت لینا مشروع ہے جیسا کہ خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تھی۔
(2) حدیث سے معلوم ہوا کہ نوحہ کرنا حرام اور ناجائز ہے، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔ شرعاََ یہ بہت قبیح کام ہے، اس لیے اس سے روکنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر اس سلسلے میں ڈانٹ ڈپٹ سے کام لینا پڑے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بابت منقول ہے کہ وہ کسی کی وفات پر اگر کسی کو غلط انداز میں اور غیر شرعی رونا روتے دیکھتے تو اسے پتھر وغیرہ مارتے اور اس رونے والے شخص کے منہ میں مٹی ٹھونستے۔ دیکھیے: حرمت نوحہ کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلاََ: یہ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے، غم زیادہ اور صبر نہ کرنے کا سبب بنتا ہے، نیز نوحہ کرنے سے اﷲ تعالیٰ کی قضا و قدر کی مخالفت اور اس پر عدم رضا لازم آتی ہے۔
(3) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جب چاہیں اور جس کے لیے چاہیں عام قانون میں تخصیص فرما دیں جس طرح کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے لیے تخصیص کی گئی۔
(4) ”ایک عورت نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی“ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی گھر کوئی میت ہوتی تو دوسری عورتیں باری باری اس کے گھر کی عورتوں سے مل کر جھوٹ موٹ کرتیں اور زبانی رونا روتیں۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بیعت کرنے لگیں تو آپ نے بیعت کے وقت نوحہ نہ کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔ ان کو خیال آیا کہ فلاں عورت نےتو نوحہ میں میری مدد کی تھی۔ اور جاہلیت میں اس مدد کو بھی لین دین کی طرح سمجھا جاتا تھا اور اس کا باقاعدہ مطالبہ ہوتا تھا۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو خطرہ ہوا کہ کل کلاں وہ عورت آکر مجھ سے بدلے کا مطالبہ کرے گی، اس لیے مجھے بیعت سے پہلے ہی بدلہ چکا دینا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4184]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أم عطية الأنصارية