🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب :
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4229
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً". قَالَ مُعَاذٌ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَعْتِرُ أَبْصَرَتْهُ عَيْنِي فِي رَجَبٍ.
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے ۱؎۔ معاذ کہتے ہیں: ابن عون رجب میں عتیرہ کرتے تھے، ایسا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4229]
حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ میں وقوف کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر گھر والوں پر ایک سال بعد قربانی بھی ہے اور عتیرہ بھی۔ (راویِ حدیث) معاذ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا کہ (عبداللہ) ابن عون رجب میں عتیرہ (جانور) ذبح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 1(2788)، سنن الترمذی/الضحایا 19 (1518)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، مسند احمد (4/215، 5/76) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: فرع اور عتیرہ کے سلسلے میں مروی تمام احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایام جاہلیت میں جاہلی انداز میں انجام دیئے جاتے تھے جس میں شرک کی ملاوٹ ہوتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں ان کو جائز قرار تو دیا، مگر وہ شرک و کفر سے خالی اور جاہلی عادات کی مشابہت سے دور ہو، اور اگر نہ انجام دیئے جائیں تو بہتر ہے، خاص طور پر فرع کو اگر چھوڑ رکھا جائے تو یہ جانور بڑا ہو کر زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، واللہ اعلم (دیکھئیے اگلی روایات)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2788) ترمذي (1518) ابن ماجه (3125) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مخنف بن سليم العبديصحابي
👤←👥عامر، أبو رملة
Newعامر ← مخنف بن سليم العبدي
مجهول
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← عامر
ثقة ثبت فاضل
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← عبد الله بن عون المزني
ثقة متقن
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4229
على أهل بيت في كل عام أضحاة وعتيرة
جامع الترمذي
1518
على كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة هل تدرون ما العتيرة هي التي تسمونها الرجبية
سنن أبي داود
2788
يا أيها الناس إن على كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة أتدرون ما العتيرة هذه التي يقول الناس الرجبية
سنن ابن ماجه
3125
على كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة أتدرون ما العتيرة هي التي يسميها الناس الرجبية
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4229 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4229
اردو حاشہ:
قربانی سے مراد تو ذوالحجہ والی قربانی ہے جو سنت مؤکدہ ہے، البتہ عتیرہ صدقے کے طور پر دیگر دلائل کی رو سے مستحب ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے نام پر۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4229]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2788
قربانی کے وجوب کا بیان۔
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! (سن لو) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور «عتیرہ» ہے ۱؎ کیا تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: «عتیرہ» منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2788]
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے(عتیرة) کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
جب کہ آگے حدیث (2831) سے اس کے جواز کی نفی ہوتی ہے۔
اور یہی بات راحج ہے۔


اس حدیث سے بظاہر قربانی کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے دلائل سے اس کا استحباب واستنان معلوم ہوتا ہے۔
اس لئے محدثین نے ان سارے دلائل کوسامنے رکھتے ہوئے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔
کہ قربانی سنت موکدہ ہے۔
یعنی ایک اہم اور موکد حکم ہے۔
لیکن فرض نہیں۔
تاہم استطاعت کے باوجود اس سنت موکد ہ سے گریز کسی طرح بھی صحیح نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2788]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3125
قربانی واجب ہے یا نہیں؟
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ۱؎ اور ایک «عتیرہ» ہے، تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3125]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کتاب الذبائح کے دوسرے باب میں وارد حدیث میں عتیرہ کی مشروعیت کی نفی کی گئی ہے۔
بعض علماء نے ان دونوں کو اس انداز سے جمع کیا ہے کہ عید کی قربانی واجب ہے۔
اور رجب کی قربانی نفل یعنی (لاعتيرة)
کوئی عتیرہ نہیں کا مطلب یہ ہے کہ عتیرہ واجب نہیں اور زیر مطالعہ حدیث کا مطلب ہوگا کہ عتیرہ مشروع ہے۔
بہت سے علماء نے عتیرہ کو منسوخ قراردیا ہے۔

(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہےاور مزید لکھا ہے کہ سنن النسائي اور سنن ابي داؤد کی احادیث اس سے کفایت کرتی ہیں۔ دیکھیے تحقیق و تخریج حدیث ہذا۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے حسن قراردیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناء پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 29/ 419، 420 وصحيح سنن إبي داؤد (مفصل)
للألباني، حديث: 2287)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3125]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1518
قربانی سے متعلق ایک اور باب۔
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1518]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1518]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4229 in Urdu