سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : الرخصة في إمساك الكلب للحرث
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4296
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے عمل (اجر) میں سے ایک قیراط کم ہو گا“، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: ”یا کھیتی کا کتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4296]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جانوروں کی حفاظت یا شکار کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا، اس کے نیک اعمال سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ بھی بیان فرمائے کہ ”کھیتی کی حفاظت والا کتا“ بھی رکھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (1574)، (تحفة الأشراف: 6796) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4296 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4296
اردو حاشہ:
(1) شکار کے کتے سے مراد وہ کتا ہے جو عملاََ شکار کے لیے استعمال ہو، یعنی اس کے ساتھ شکار کیا جائے نہ کہ صرف شکاری نسل سے ہو جیسا کہ آج کل سمجھا جاتا ہے۔ شرعاََ ہر وہ کتا شکاری ہو سکتا ہے جسے شکار کی تربیت و تعلیم دی جائے۔ یہ بات بہر صورت یاد رہنی چاہیے کہ جس شکار کی تربیت دے کر کتے کو سدھانا ہے، وہ شوقیہ خنزیر وغیرہ کا شکار نہیں بلکہ حلال جانوروں کا شکار ہے۔
(2) دوڑ کے لیے کتا رکھنا بھی گناہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کو دوڑنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ کتے کے درڑنے سے بنی نوع انسان کو کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
(3) کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتا کھیت میں ہی رہنا چاہیے۔ اسی طرح جانوروں کی حفاظت کرنے والا کتا بھی جانوروں ہی میں رہے۔ گھر میں ان کا کوئی کام نہیں۔ شکار والا کتا بھی ممکن حد تک گھر سے باہر ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔
(1) شکار کے کتے سے مراد وہ کتا ہے جو عملاََ شکار کے لیے استعمال ہو، یعنی اس کے ساتھ شکار کیا جائے نہ کہ صرف شکاری نسل سے ہو جیسا کہ آج کل سمجھا جاتا ہے۔ شرعاََ ہر وہ کتا شکاری ہو سکتا ہے جسے شکار کی تربیت و تعلیم دی جائے۔ یہ بات بہر صورت یاد رہنی چاہیے کہ جس شکار کی تربیت دے کر کتے کو سدھانا ہے، وہ شوقیہ خنزیر وغیرہ کا شکار نہیں بلکہ حلال جانوروں کا شکار ہے۔
(2) دوڑ کے لیے کتا رکھنا بھی گناہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کو دوڑنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ کتے کے درڑنے سے بنی نوع انسان کو کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
(3) کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتا کھیت میں ہی رہنا چاہیے۔ اسی طرح جانوروں کی حفاظت کرنے والا کتا بھی جانوروں ہی میں رہے۔ گھر میں ان کا کوئی کام نہیں۔ شکار والا کتا بھی ممکن حد تک گھر سے باہر ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4296]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4296 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← أبو هريرة الدوسي