سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : الضب
باب: ضب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4325
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ عُودًا يَعُدُّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكَلُوا مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَمَرَ بِأَكْلِهَا، وَلَا نَهَى.
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ ٹھہرے، لوگوں کو ضب ملی، میں نے ایک ضب پکڑی اور اسے بھونا، پھر اسے لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کی انگلیاں گنیں، پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی شکل مسخ کر کے زمین کے کچھ جانوروں کی طرح بنا دی گئی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے“ ۱؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں نے اس میں سے کھا لیا ہے، تو پھر نہ آپ نے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4325]
حضرت ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگ ایک منزل میں اترے تو انہیں بہت سے سانڈے مل گئے۔ میں نے ایک سانڈا پکڑا، اسے بھونا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی پکڑی اور اس کے ساتھ اس کی انگلیاں گننے لگے، پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک قوم کو زمین کے جانوروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون سے جانور تھے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے تو اسے کھا بھی لیا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس کے کھانے کا حکم دیا اور نہ (اس کے کھانے سے) روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3795)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3238)، (تحفة الأشراف: 2069)، مسند احمد (4/220)، ویأتي فیما یلي: 4326، 4327 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: احتمال ہے کہ آپ کا یہ فرمان اس وقت کا ہو جب آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ مسخ کی ہوئی مخلوق تین دن سے زیادہ مدت تک باقی نہیں رہتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3795
| أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض لم يأكل ولم ينه |
سنن ابن ماجه |
3238
| أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض لم يأكل ولم ينه |
سنن النسائى الصغرى |
4325
| أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض ما أمر بأكلها ولا نهى |
سنن النسائى الصغرى |
4326
| أمة مسخت لا يدرى ما فعلت وإني لا أدري لعل هذا منها |
المعجم الصغير للطبراني |
622
| عن الضب ، فقال : أمة مسخت والله أعلم |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4325 in Urdu
زيد بن وهب الجهني ← ثابت بن وديعة الأنصاري