🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب : تحريم أكل لحوم الخيل
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4336
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ أَكْلُ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 26 (3790)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 14 (3198)، (تحفة الأشراف: 3505)، مسند احمد (4/89) (ضعیف) (اس کے راوی ”صالح بن یحیی“ ضعیف، اور ان کے باپ ”یحییٰ‘‘ مجہول الحال ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3790) ابن ماجه (3198) الحديث الآتي (4337) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خالد بن الوليد المخزومي، أبو سفيان، أبو سليمانصحابي
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمة
Newالمقدام بن معدي كرب الكندي ← خالد بن الوليد المخزومي
صحابي
👤←👥يحيى بن المقدام الكندي
Newيحيى بن المقدام الكندي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
مجهول الحال
👤←👥صالح بن يحيى الكندي
Newصالح بن يحيى الكندي ← يحيى بن المقدام الكندي
مقبول
👤←👥ثور بن يزيد الرحبي، أبو خالد
Newثور بن يزيد الرحبي ← صالح بن يحيى الكندي
ثقة ثبت إلا أنه يرى القدر
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← ثور بن يزيد الرحبي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4336
لا يحل أكل لحوم الخيل والبغال والحمير
سنن النسائى الصغرى
4337
نهى عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير وكل ذي ناب من السباع
سنن أبي داود
3790
عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير
سنن ابن ماجه
3198
عن لحوم الخيل والبغال والحمير
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4336 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4336
اردو حاشہ:
علامہ سندھی فرماتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے سنن کبریٰ میں فرمایا ہے: اس سے پہلے آنے والی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تو یہ منسوخ ہے کیونکہ جواز کی روایت میں اجازت دینے کے الفاظ اس کے منسوخ ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ دیکھیے: (التعلیقات السلفیة على سنن النسائي: 4/ 603) یہ حدیث کسی بھی لحاظ سے جواز کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4336]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4337
گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4337]
اردو حاشہ:
یہ روایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان کے نزدیک گھوڑا جہاد میں استعمال ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اس لیے اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا مگر اس حدیث میں گھوڑے کو خچر، گدھے اور درندوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ گویا یہ پلید ہے۔ دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ حدیث کی حیثیت پر سابقہ حدیث میں بھی بحث ہو چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4337]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3790
گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان۔
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3790]
فوائد ومسائل:
توضیح: گھوڑے کا گوشت حلال اور طیب ہے۔
ہمارے ہاں اس کا رواج نہ ہونا الگ بات ہے۔
دیکھیے۔
(صحیح البخاري، الذبائع والصید، باب لحوم الخیل، حدیث:5519۔
و باب النحر  و ذبح حدیث: 5511۔
5510۔
و صحیح مسلم، الصید و الذبائح، باب إباحة أکل لحم الخیل، حدیث: 1942۔
1941) اور یہ آخری روایت (خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ضعیف ہے۔
اسے امام احمد بخاری۔
موسیٰ بن ہارون دراقطنی خطابی ابن عبد البر اور عبد الحق وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
علامہ البانی نے بھی اسے ضعیف سنن ابی دائود میں درج کیا ہے۔
بعض اہل علم سورہ نحل کی آیت مبارکہ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً (قرآن ۚ) (النحل۔
8) اللہ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا۔
کہ تم ان پرسواری کرو۔
اور یہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں۔
سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ یہ جانور کھانے کےلئے نہیں ہیں۔
(لہذا حرام ہیں۔
) ان حضرات کا استدلال صحیح نہیں۔
کیونکہ آیت کریمہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ یہ جانورمحض سواری اور زینت ہی کےلئے ہیں۔
دیگر فوائد حاصل کرنا ناجائز ہیں۔
چونکہ مذکورہ فوائد اہم تر تھے، اس لئے قرآن کریم نے ان کا ذکرفرمایا ہے۔
جیسے کہ سورہ مائدہ میں ہے (قرآن) (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ) (المائدة:3) تم پرمردار خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔
اس میں خنزیر کے صرف گوشت کا ذکر ہوا ہے۔
کیونکہ اہم شے یہی ہے۔
حالانکہ دیگر اشیاء ہڈی اور دوسرے اجزاء کا بھی یہی حکم ہے اور ان کے حرام ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔
اس مذکورہ سیاق میں گھوڑے پر بوجھ لادنے کا ذکر بھی نہیں ہے۔
تو کیا گھوڑے پر بوجھ لادنا جائز سمجھ لیا جائے؟ یہ بات عقل ونقل کے سراسر خلاف ہوگی۔
اس طرح سے اس کے حرام ہونے کا استدلال بھی قطعا ً درست نہیں۔
شروع آیات میں ہے۔
(وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ) (النحل:5) اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں۔
اور بھی بہت سے منافع ہیں۔
اور کئی تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔
تو یہاں اہم فوائد کا ذکر کردیا گیا ہے۔
اور باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(معالم السنن وعون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3790]