سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : الكبش
باب: مینڈھے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، فَحِيلٍ يَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحی4(2796)، سنن الترمذی/الضحایا4(1496)، سنن ابن ماجہ/الضحایا4(3128) (تحفة الأشراف: 4297) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا پاؤں، اس منہ اور اس کی آنکھیں سب سیاہ (کالے) تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، سنده ضعيف، ابو داود (2796) ترمذي (1496) ابن ماجه (3128) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4395
| ضحى رسول الله بكبش أقرن فحيل يمشي في سواد ويأكل في سواد وينظر في سواد |
جامع الترمذي |
1496
| ضحى رسول الله بكبش أقرن فحيل يأكل في سواد ويمشي في سواد وينظر في سواد |
سنن أبي داود |
2796
| يضحي بكبش أقرن فحيل ينظر في سواد ويأكل في سواد ويمشي في سواد |
سنن ابن ماجه |
3128
| ضحى رسول الله بكبش أقرن فحيل يأكل في سواد ويمشي في سواد وينظر في سواد |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4395 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4395
اردو حاشہ:
(1) مینڈھے دنبے اور چھترے وغیرہ کی قربانی جائز ہے۔
(2) سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود سینگوں والے مینڈھے قربان فرمایا کرتے تھے۔
(3) حدیث مبارکہ سے سینگوں والے، چتکبرے اور نر مینڈھوں کی قربانی کا استحباب معلوم ہوتا ہے، نیز خصی جانور کو قربان کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں آتا ہے۔
(1) مینڈھے دنبے اور چھترے وغیرہ کی قربانی جائز ہے۔
(2) سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود سینگوں والے مینڈھے قربان فرمایا کرتے تھے۔
(3) حدیث مبارکہ سے سینگوں والے، چتکبرے اور نر مینڈھوں کی قربانی کا استحباب معلوم ہوتا ہے، نیز خصی جانور کو قربان کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں آتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4395]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2796
کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو دیکھتا تھا سیاہی میں اور کھاتا تھا سیاہی میں اور چلتا تھا سیاہی میں (یعنی آنکھ کے اردگرد)، نیز منہ اور پاؤں سب سیاہ تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2796]
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو دیکھتا تھا سیاہی میں اور کھاتا تھا سیاہی میں اور چلتا تھا سیاہی میں (یعنی آنکھ کے اردگرد)، نیز منہ اور پاؤں سب سیاہ تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2796]
فوائد ومسائل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی اور غیر خصی دونوں طرح کے جانوروں کی قربانی کی ہے۔
اس لیے قربانی میں دونوں قسم کے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی اور غیر خصی دونوں طرح کے جانوروں کی قربانی کی ہے۔
اس لیے قربانی میں دونوں قسم کے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2796]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3128
کن جانوروں کی قربانی مستحب ہے؟
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا، اس کا منہ اور پیر کالے تھے، اور آنکھیں بھی کالی تھیں (یعنی چتکبرا تھا)۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3128]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا، اس کا منہ اور پیر کالے تھے، اور آنکھیں بھی کالی تھیں (یعنی چتکبرا تھا)۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3128]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قربانی کا جانور دیکھنے میں بھی خوبصورت ہونا چاہیے۔
(2)
نر(فحيل)
سے مراد یہ ہے کہ وہ خصی نہ تھا
(3)
نر اور خصی دونوں قسم کا جانور قربانی میں دینا جائز ہے۔
(4)
سیاہی میں کھانے چلنے اور دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا منہ بھی سیاہ تھا اس کے پاؤں بھی کالے تھےاور اسکی آنکھوں کے ارد گرد کی جگہ بھی سیاہ تھی۔
اس طرح کا مینڈھا خوبصورت سمجھا جاتا ہےنیز دیکھنے میں بھی خوبصورت اور بھلا لگتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قربانی کا جانور دیکھنے میں بھی خوبصورت ہونا چاہیے۔
(2)
نر(فحيل)
سے مراد یہ ہے کہ وہ خصی نہ تھا
(3)
نر اور خصی دونوں قسم کا جانور قربانی میں دینا جائز ہے۔
(4)
سیاہی میں کھانے چلنے اور دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا منہ بھی سیاہ تھا اس کے پاؤں بھی کالے تھےاور اسکی آنکھوں کے ارد گرد کی جگہ بھی سیاہ تھی۔
اس طرح کا مینڈھا خوبصورت سمجھا جاتا ہےنیز دیکھنے میں بھی خوبصورت اور بھلا لگتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3128]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1496
کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ایک نر مینڈھے کی قربانی کی، وہ سیاہی میں کھاتا تھا، سیاہی میں چلتا تھا اور سیاہی میں دیکھتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1496]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے ایک نر مینڈھے کی قربانی کی، وہ سیاہی میں کھاتا تھا، سیاہی میں چلتا تھا اور سیاہی میں دیکھتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1496]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
یعنی اس کا منہ،
اس کے پیراوراس کی آنکھیں سب کالی تھیں۔
وضاحت: 1؎:
یعنی اس کا منہ،
اس کے پیراوراس کی آنکھیں سب کالی تھیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1496]
محمد الباقر ← أبو سعيد الخدري