🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : الإذن في ذلك
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا، وَتَزَوَّدُوا، وَادَّخِرُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1972)، (تحفة الأشراف: 2936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 124 (1719)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (6)، مسند احمد (3/325، 344) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن مسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم العتقي، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن القاسم العتقي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥الحارث بن مسكين الأموي، أبو عمرو
Newالحارث بن مسكين الأموي ← عبد الرحمن بن القاسم العتقي
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن سلمة المرادي، أبو الحارث
Newمحمد بن سلمة المرادي ← الحارث بن مسكين الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5424
نتزود لحوم الهدي على عهد النبي إلى المدينة
صحيح البخاري
5567
نتزود لحوم الأضاحي على عهد النبي إلى المدينة
صحيح البخاري
2980
نتزود لحوم الأضاحي على عهد النبي إلى لمدينة
صحيح مسلم
5104
عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث ثم قال بعد كلوا وتزودوا وادخروا
صحيح مسلم
5105
لا نأكل من لحوم بدننا فوق ثلاث منى أرخص لنا رسول الله فقال كلوا وتزودوا
صحيح مسلم
5106
نتزود منها ونأكل منها يعني فوق ثلاث
سنن النسائى الصغرى
4431
كلوا وتزودوا وادخروا
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
348
نهى عن اكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، ثم قال بعد: كلوا وتصدقوا وتزودوا وادخروا
مسندالحميدي
1297
كنا نتزود لحوم الهدي على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4431 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4431
اردو حاشہ:
حدیث مبارکہ کے الفاظ سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کا حکم ہے، یعنی ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں: [كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا] یعنی کھاؤ، زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔ یہ تینوں صیغے امر کے ہیں لیکن جب کوئی قرینہ صارفہ موجود ہو تو پھر امر استحباب، رخصت اور جواز وغیرہ پر بھی دلالت کرتا ہے۔ اس جگہ امر استحباب اور رخصت کے معنیٰ میں ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے رخصت ہی سمجھی ہے۔ بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں: [أن رسولَ اللهِ، نهانا أن نأكُلَه فوقَ ثلاثةِ أيامٍ، ثم رَخَّصَ لنا أن نَأْكُلَه ونُدَّخِرَه ] بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پھر آپ نے ہمیں اس کے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دے دی۔ (دیکھئے حدیث: 4433)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4431]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 348
قربانی کے گوشت کو خود استعمال کرنا اور ذخیرہ کر لینا صحیح ہے
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، ثم قال بعد: كلوا وتصدقوا وتزودوا وادخروا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے) تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا پھر اس کے بعد فرمایا: کھاؤ صدقہ کرو، زاد راہ بناؤ اور ذخیرہ کر لو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 348]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1972/29، من حديث ما لك به ورواه عطاء بن ابي رباح عن جابر نه نحو المعنيٰ وابوالزبيرصرح بالسماع عند أحمد 378/3 ح 15042،]

تفقه
➊ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع والا حکم منسوخ ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ ح 309، ومسلم 1971]
➋ قربانی کے گوشت کو خود استعمال کرنا اور ذخیرہ کر لینا صحیح ہے اور اسے صدقہ کر دینا یا رشتہ داروں دوستوں وغیرہم کو تحفتاً دینا اچھا کام ہے۔
➌ اس حدیث کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں۔
اس سلسلے میں مختصر تحقیق درج ذیل ہے:
● جن روایات میں آیا ہے کہ تمام ایام تشریق زبح کے دن ہیں، وہ سب کی سب ضعیف و غیر ثابت ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قربانی والے دن کے بعد (مزید) دو دن قربانی (ہوتی) ہے۔ [موطأ امام مالك 487/2 ح 1071، وسنده صحيح]
● سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔ [احكام القرآن للطحاوي 205/2 ح 1571، وسنده حسن]
● سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قربانی والے (اول) دن کے بعد دو دن قربانی ہے۔ [احكام القرآن للطحاوي 206/2 ح 1576، وهو صحيح]
● سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قربانی کے تین دن ہیں۔ [احكام القرآن للطحاوي 205/2 ح 1569، وهو حسن]
● یہی موقف جمہور صحابہ کرام و جمہور علماء کا ہے اوریہی راجح ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: [ماهنامه الحديث حضرو:44 ص6 - 11]
➍ قربانی کے گوشت کے حصے بنانا جائز ہے۔ ایک اپنے لئے، دوسرا غریبوں کے لئے اور تیسرا رشتہ داروں و دوست احباب کے لئے اور اگر حصہ نہ بنائیں تو بھی جائز ہے۔
➎ شریعت اسلامیہ میں ناسخ و منسوخ کا سلسلہ تربیت اور اصلاح معاشرہ کی غرض سے تھا لہٰذا اب منسوخ کے بجائے ثابت شده ناسخ پر ہی عمل کرنا چاہئے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 105]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1297
1297- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم قربانی کے جانور کا گوشت مدینہ منورہ پہنچنے تک زاد راہ طور پر استعمال کرتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1297]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت جتنی دیر چاہیں رکھ سکتے ہیں، سفر میں بھی کھانا چاہیے، جس روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ نہیں کھانا وہ روایت منسوخ ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1295]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5104
حضرت جابر ؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا، پھر بعد میں فرمایا: "کھاؤ، زادراہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:5104]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ان متصوفہ کی بھی تردید ہوتی ہے کہ اگلے دن کے لیے کھانا ذخیرہ کرنا جائز نہیں ہے اور جو کسی چیز کا کچھ بھی ذخیرہ کرتا ہے،
وہ ولی نہیں ہو سکتا،
کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ بدگمانی ہے۔
" حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود سال بھر کے لیے غلہ رکھتے تھے اور صحابہ کرام کو ذخیرہ کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور جائز اسباب اپنانا خلاف توکل نہیں ہے،
ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی وقتی ضرورت کے تحت اپنا سب کچھ صدقہ کر دے اور اللہ پر توکل کرے کہ وہ اور دے دے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5104]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5424
5424. سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قربانی کا گوشت مدینہ طیبہ تک لاتے تھےمحمد بن عیینہ سے روایت کرنے میں عبداللہ بن محمد کی متابعت کی ہے ابن جریج نے کہا کہ میں نے سیدنا عطاء سے پوچھا: کیا سیدنا جابر ؓ نے کہا تھا: یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے؟ انہوں نے کہا: یہ نہیں کہا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5424]
حدیث حاشیہ:
حالانکہ عمرو بن دینار کی روایت میں یہ موجود ہے توشاید عطاء سے یہ حدیث بیان کرنے میں غلطی ہوئی۔
کبھی انہوں نے اس لفظ کو یاد رکھا، کبھی انکار کیا۔
مسلم کی روایت میں یوں ہے۔
میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے ''حتی جئنا المدینة'' انہوں نے کہا کہ ہاں کہا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5424]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2980
2980. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت توشے کے طور پر مدینہ طیبہ لے کر جاتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2980]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ سفر کے لیے زاد سفر لے جانا توکل کے منافی نہیں جبکہ کچھ صوفیاء نے حدیث کی مخالفت کرتے ہوئے اسے توکل کے خلاف کہا ہے۔

اس حدیث میں اگرچہ سفر مدینہ کا ذکر ہے لیکن یہ مدینے کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ اگر سفر مدینہ میں زاد سفر لے جانا جائز ہے جو مبارک شہر اور پیارا وطن ہے تو سفر جہاد میں زاد سفر لے جانا بطریق اولیٰ جائز ہوا کیونکہ اس میں تو دشمن کی سر زمین پرسفر کرتا ہوتا ہے ضافت وغیرہ کا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے پھر جہاد کے مسافر کو تو مزید قوت حاصل کرنے کے لیے زاد سفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2980]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5424
5424. سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قربانی کا گوشت مدینہ طیبہ تک لاتے تھےمحمد بن عیینہ سے روایت کرنے میں عبداللہ بن محمد کی متابعت کی ہے ابن جریج نے کہا کہ میں نے سیدنا عطاء سے پوچھا: کیا سیدنا جابر ؓ نے کہا تھا: یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے؟ انہوں نے کہا: یہ نہیں کہا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5424]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ میں قربانی کرتے، پھر قربانی کا گوشت ذخیرہ کیا جاتا حتی کہ اسے مدینہ طیبہ لایا جاتا۔
اس سے دوران سفر میں طعام ذخیرہ کرنے کا جواز ملتا ہے۔
اس سے واضح حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی پھر حضرت ثوبان سے فرمایا:
اس کا گوشت صاف کر کے بناؤ۔
میں آپ کو وہ گوشت کھلاتا رہا حتی کہ آپ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔
(صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5110 (1975) (2)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے تھے:
یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے۔
حضرت عطاء نے "ہاں" میں جواب دیا۔
(صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5105 (1972)
شاید عطاء سے یہ حدیث بیان کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔
کبھی انہوں نے ان الفاظ کو یاد رکھا اور بیان کیا اور کبھی بھول گئے تو انکار کر دیا، البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت کو قابل اعتماد قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 685/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5424]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5567
5567. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مدینہ طیبہ تک قربانی کا گوشت جمع رکھتے تھے۔ راوی نے کئی مرتبہ (قربانی کا گوشت کے بجائے) ہدی کا گوشت کہا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5567]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں نصف یا تہائی کی کوئی قید نہیں ہے، مطلق طور پر جمع کرنے کا جواز ہے، نیز مسافر انسان تین دن سے زیادہ دنوں تک قربانی کا گوشت ذخیرہ کر سکتا ہے۔
(2)
قرآن کریم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا سارا گوشت خود کھانے کے بجائے غریبوں، محتاجوں اور دوست احباب کو بھی کھلانا چاہیے۔
اگر ضرورت ہو تو خود جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5567]