سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : بيع الحاضر للبادي
باب: شہری دیہاتی کا مال بیچے یہ کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4500
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ رزق (روزی) فراہم کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4500]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، بلکہ لوگوں کو خود بیچنے دو تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2872)، مسند احمد (3/307، 312، 312، 386، 392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3826
| لا يبع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض |
جامع الترمذي |
1223
| لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض |
سنن أبي داود |
3442
| لا يبع حاضر لباد وذروا الناس يرزق الله بعضهم من بعض |
سنن ابن ماجه |
2176
| لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض |
سنن النسائى الصغرى |
4500
| لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض |
مسندالحميدي |
1307
| لا يبع حاضر لباد، دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4500 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4500
اردو حاشہ:
مقصود یہ ہے کہ معاملات فطری طریقے سے جاری رہنے چاہییں۔ مصنوعی طریقے سے قلت پیدا کر کے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے مہنگائی پیدا نہیں کرنی چاہیے بلکہ جوں جوں پیداوار آتی جائے، بازار میں فروخت ہوتی جائے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی رہے۔ ظاہر ہے اگر شہری دیہاتی کا مال بیچے گا تو ذخیرہ اندوزی کرے گا اور مصنوعی قلت پیدا کرے گا تاکہ پیداوار مہنگی فروخت ہو اور اس کا اپنا فائدہ ہو۔
مقصود یہ ہے کہ معاملات فطری طریقے سے جاری رہنے چاہییں۔ مصنوعی طریقے سے قلت پیدا کر کے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے مہنگائی پیدا نہیں کرنی چاہیے بلکہ جوں جوں پیداوار آتی جائے، بازار میں فروخت ہوتی جائے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی رہے۔ ظاہر ہے اگر شہری دیہاتی کا مال بیچے گا تو ذخیرہ اندوزی کرے گا اور مصنوعی قلت پیدا کرے گا تاکہ پیداوار مہنگی فروخت ہو اور اس کا اپنا فائدہ ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4500]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4500 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري