پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : أخذ الورق من الذهب والذهب من الورق وذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر ابن عمر فيه
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ , وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4588]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ دراہم کی جگہ دینار اور دینار کی جگہ دراہم لینا پسند نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: سعید بن جبیر سے اسی سند سے نمبر ۴۵۹۲ پر جو روایت ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله | ثقة ثبت | |
👤←👥موسى بن نافع الأسدي، أبو شهاب موسى بن نافع الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← موسى بن نافع الأسدي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4588 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4588
اردو حاشہ:
ان کے ناپسند کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً اس کا جواز ثابت ہے۔ ہاں، قرض کی صورت میں ان کے قول کی معقول وجہ ہو سکتی ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
ان کے ناپسند کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً اس کا جواز ثابت ہے۔ ہاں، قرض کی صورت میں ان کے قول کی معقول وجہ ہو سکتی ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4588]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4588 in Urdu
موسى بن نافع الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي