🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. بَابُ: أَخْذِ الْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ وَالذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4587
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ , أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ , فَقَالَ:" إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی بیچتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے ساتھی سے بیچو تو اس سے الگ نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان کوئی چیز باقی رہے (یعنی حساب بے باق کر کے الگ ہو)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4587]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں سونے کا چاندی کے ساتھ اور چاندی کا سونے کے ساتھ سودا کیا کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی سے (اس قسم کا) سودا کرے تو اس سے ایسی حالت میں جدا نہ ہو کہ تیرے اور اس کے درمیان کوئی شبہات والی چیز باقی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ , وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4588]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ دراہم کی جگہ دینار اور دینار کی جگہ دراہم لینا پسند نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: سعید بن جبیر سے اسی سند سے نمبر ۴۵۹۲ پر جو روایت ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4589
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مُؤَمَّلٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي هَاشِمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا يَعْنِي فِي قَبْضِ الدَّرَاهِمِ مِنَ الدَّنَانِيرِ , وَالدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یعنی دینار طے کر کے کر درہم لینے اور درہم طے کر کے کر دینار لینے میں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4589]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ دینار کی جگہ درہم اور درہم کی جگہ دینار لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4590
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ:" فِي قَبْضِ الدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَرْضٍ".
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ درہم طے کر کے کر دینار لینے کو وہ ناپسند کرتے تھے جب وہ قرض کے طور پر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4590]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ درہم کی جگہ دینار لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، مگر جب وہ قرض کے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18418) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4591
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُوسَى أَبِي شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا وَإِنْ كَانَ مِنْ قَرْضٍ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے خواہ قرض کے طور پر ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4591]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ (دراہم کی جگہ دینار اور دینار کی جگہ دراہم لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، اگرچہ وہ قرض کے ہی کیوں نہ ہوں)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4592
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ.
اس سند سے بھی سعید بن جبیر سے اسی طرح مروی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نے اس مقام میں اسے اسی طرح پایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4592]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اسی قسم کا قول منقول ہے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ اس جگہ میں نے ایسا ہی پایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سعید کی پہلی روایت سے متضاد، اس سے گویا وہ ضعف کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں