🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. بَابُ : أَخْذِ الْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ وَالذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4592
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ.
اس سند سے بھی سعید بن جبیر سے اسی طرح مروی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نے اس مقام میں اسے اسی طرح پایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4592]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اسی قسم کا قول منقول ہے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ اس جگہ میں نے ایسا ہی پایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سعید کی پہلی روایت سے متضاد، اس سے گویا وہ ضعف کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
5436

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد اللهثقة ثبت
👤←👥موسى بن نافع الأسدي، أبو شهاب
Newموسى بن نافع الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← موسى بن نافع الأسدي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4592 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4592
اردو حاشہ:
التعلیقات السلفیہ میں ہے کہ شاید امام نسائی رحمہ اللہ اس قول کا ضعف ظاہر فرما رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے روایت نمبر 4588 میں تو گزرا ہے کہ وہ عا م حالات میں بھی دراہم کی جگہ دینار اور دینار کی جگہ دراہم لینا پسند نہیں فرماتے تھے چہ جائیکہ وہ قرض کی صورت میں یہ جائز قرار دیں۔ واللہ أعلم۔ صاحب ذخیرۃ العقبی فرماتے ہیں کہ یہ سند تین احادیث پہلے گزر چکی ہے۔ اس جگہ دینار اور دیناروں کی جگہ درہم لینا ناپسند کرتے تھے جبکہ اس روایت میں ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ قرض ہی کے کیوں نہ ہوں۔ شارح فرماتے ہیں کہ وہ روایت جس میں اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا گیا، سابقہ روایت کی نسبت زیادہ راجح ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روایت، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی بیان کردہ روایت کے موافق ہے جس میں عدم کراہت کا بیان ہے۔ واللہ أعلم! دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ، شرح سنن النسائي للأتیوبي: 35/ 20)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4592]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4592 in Urdu