🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : ما لا قطع فيه
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4971
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , أَبُو مَيْمُونٍ لَا أَعْرِفُهُ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل چرانے میں، اور نہ ہی گابا چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، میں ابومیمون کو نہیں جانتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4971]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل اور گابھے (گودے) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ ابو میمون کو میں نہیں پہچانتا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4969 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ابو میمون مجہول راوی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو ميمون، أبو ميمون
Newأبو ميمون ← رافع بن خديج الأنصاري
مجهول
👤←👥محمد بن يحيى الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الأنصاري ← أبو ميمون
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← محمد بن يحيى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
👤←👥محمد بن علي الرقي، أبو العباس
Newمحمد بن علي الرقي ← سعيد بن منصور الخراساني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1449
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن أبي داود
4388
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن ابن ماجه
2593
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4964
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4965
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4966
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4967
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4968
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4969
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4970
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4971
لا قطع في ثمر ولا كثر والكثر الجمار
سنن النسائى الصغرى
4972
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4973
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن النسائى الصغرى
4973
لا قطع في ثمر ولا كثر
بلوغ المرام
1058
لا قطع في ثمر ولا كثر
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4971 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4971
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ ابو میمن مجہول ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کو ن ہے، لہذا یہ خطا ہے کیونکہ معروف روایت کی سند جو کہ حفاظ محدثین، مثلا: لیث اور سفیان ثوری کی ہے، اس طرح ہے: عن محمد بن يحي بن حبان عن عمه واسع عن رافع بن خديج اور: عن يحي بن سعيد عن محمد بن يحي بن حبان عن عمه أن رافع بن خديج .......، جیسا کہ مذکورہ روایت سے پہلے والی دو روایتیں ہیں۔ ابو میمون والی سند میں خطا اور غلطی ہے۔ واللہ أعلم، تاہم متن حدیث صحیح ہے کیونکہ دوسری صحیح اسناد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4971]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1058
چوری کی حد کا بیان
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا پھل اور درخت خرما کے گوند میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1058»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب ما لا قطع فيه، حديث:4388، والترمذي، الحدود، حديث:1449، والنسائي، قطع السارق، حديث:4963، وابن ماجه، الحدود، حديث:2593، وأحمد:3 /463، 4 /140، 142، وابن حبان (الإحسان): 6 /318، حديث:4449.»
تشریح:
اس حدیث کے ظاہری معنی و مفہوم سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جو پھل ابھی درخت پر ہوں اور تر ہوں‘ وہ محفوظ جگہ میں ہوں یا غیر محفوظ جگہ میں، ان کی چوری میں قطع ید کی سزا نہیں ہے۔
پھر اسی پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوشت‘ دودھ‘ مشروبات‘ روٹیاں وغیرہ کھانے کی اشیاء میں بھی قطع ید کی سزا نہیں ہے۔
لیکن جمہور نے یہ قید لگائی ہے کہ اگر یہ اشیاء غیر محفوظ ہوں تو ان کے لینے میں قطع ید نہیں ورنہ یہ چوری ہوگی اور قطع ید کی سزا بھی ہوگی۔
انھوں نے یہ قید اس حدیث اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی (دو احادیث کے بعد آنے والی) حدیث میں تطبیق پیدا کرنے کی غرض سے لگائی ہے۔
اور انھوں نے کہا کہ اس حدیث کا دراصل تعلق اہل مدینہ کی اس عمومی عادت کے ساتھ ہے کہ وہ اپنے باغات کو محفوظ و مامون نہیں رکھتے تھے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1058]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4388
جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان۔
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کر لیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پھل او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4388]
فوائد ومسائل:
1) چونکہ درخت پر لگے پھل یا کھجوروں کی گری اور اسی طرح باغ میں لگے درخت غیر محفوظ ہوتے ہیں اور اصطلاحا چوری کی حد میں نہیں آتے۔
ان چیزوں کا بغیر اجازت یا چھپ کرلے لینا بلاشبہ جرم ہے، مگر اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا بلکہ مناسب تعزیزو تنبیہ یاجرمانہ ہوگا۔

2) فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معلوم ہوجانے کے بعد ذاتی، سیاسی یا دیگر مصالح کی ترجیح کا کوئی مقام نہیں رہ جاتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4388]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4971 in Urdu