سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : علامة الإيمان
باب: ایمان کی نشانی۔
حدیث نمبر: 5016
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے اپنے بال بچوں، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 8 (15)، صحیح مسلم/الإیمان 16 (44)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (67)، (تحفة الأشراف: 1249)، مسند احمد (3/177، 207، 275، 278)، سنن الدارمی/الرقاق 29 (2783) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اور باب کی دیگر حدیثوں میں جن جن اعمال کا بطور ایمان کی نشانی ذکر کیا گیا ہے وہ سب دل میں بیٹھے پختہ ایمان کا ہی نتیجہ ہیں اس لیے ان کو ”ایمان کی نشانی“ کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5016 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5016
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ بڑھ کرمحبت کرنا آدمی کے کمال ایمان کی علامت اور دلیل ہے۔
(2) ”زیادہ پیارا“ یہاں محبت سے عقلی محبت مراد ہے جس کا دوسرا نام اطاعت ہے۔ ویسے بھی محبت کا علم اطاعت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ محبت تو مخفی چیز ہے جس کا جھوٹا دعوی ٰ بھی کیا جاسکتا ہے۔ محبت کی تصدیق اطاعت ہی سے ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ({ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي [آل عمران:،3 31) مطلب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور اپنی اولاد یا اپنی دلی خواہش کےمابین تصادم پیدا ہو تو بہر صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ہی کو ترجیح دی جائے۔ فداہ أبي ونفسي وروحي صلی اللہ علیہ وسلم
(1) امام نسائی رحمہ اللہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ بڑھ کرمحبت کرنا آدمی کے کمال ایمان کی علامت اور دلیل ہے۔
(2) ”زیادہ پیارا“ یہاں محبت سے عقلی محبت مراد ہے جس کا دوسرا نام اطاعت ہے۔ ویسے بھی محبت کا علم اطاعت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ محبت تو مخفی چیز ہے جس کا جھوٹا دعوی ٰ بھی کیا جاسکتا ہے۔ محبت کی تصدیق اطاعت ہی سے ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ({ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي [آل عمران:،3 31) مطلب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور اپنی اولاد یا اپنی دلی خواہش کےمابین تصادم پیدا ہو تو بہر صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ہی کو ترجیح دی جائے۔ فداہ أبي ونفسي وروحي صلی اللہ علیہ وسلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5016]
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري