🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : آخر وقت الظهر
باب: ظہر کے اخیر وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 503
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ رَأَى الظِّلَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ شَفَقُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى بِهِ الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ قَلِيلًا، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ صَلَاتِكَ أَمْسِ وَصَلَاتِكَ الْيَوْمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، تو انہوں نے نماز فجر اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی، اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب انہوں نے سایہ کو اپنے مثل دیکھ لیا، پھر مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق یعنی رات کی سرخی ختم ہو گئی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن آئے، اور آپ کو فجر اس وقت پڑھائی جب تھوڑی روشنی ہو گئی، پھر ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل ہو گیا، پھر مغرب (دونوں دن) ایک ہی وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب رات کا ایک حصہ گزر گیا، پھر کہا: نمازوں کا وقت یہی ہے تمہارے آج کی اور کل کی نمازوں کے بیچ میں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 503]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، پھر جونہی فجر طلوع ہوئی انہوں نے صبح کی نماز اور جب سورج ڈھل گیا تو ظہر کی نماز پڑھائی، پھر عصر کی نماز پڑھائی جب انہوں نے ہر چیز کا سایہ اس کے برابر (زوال کے سائے کے علاوہ) دیکھ لیا، پھر مغرب کی نماز پڑھائی جونہی سورج غروب ہوا اور روزے دار کے لیے روزہ کھولنا حلال ہوا، پھر عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کی سرخی غائب ہوگئی۔ پھر اگلے دن وہ (جبرئیل علیہ السلام) دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو صبح کی نماز پڑھائی جب تھوڑی سی روشنی پھیل گئی تھی، پھر آپ کو ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا، پھر عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دگنا ہوگیا، پھر مغرب کی نماز کل والے وقت ہی پر پڑھائی، یعنی جب سورج غروب ہوگیا اور روزے دار کے لیے روزہ کھولنا حلال ہوگیا، پھر عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا، پھر فرمایا: ہر نماز کا وقت تمہاری کل اور آج کی نماز کا درمیانی وقت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15085) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 503 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 503
503 ۔ اردو حاشیہ:
➊ظہر کی نماز کا آخری وقت اور عصر کی نماز کا اول وقت اس حدیث اور دوسری تمام احادیث صحیحہ کی رو سے مثل اول ہی ہے، یعنی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے مگر یہ برابری زوال کے سائے کو نکال کر ہو۔ زوال کے سائے سے مراد وہ سایہ ہے جو سورج ڈھلنے کے وقت کسی چیز کا ہوتا ہے۔ اس سائے کے علاوہ سایہ اس چیز کے برابر ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم اور عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ یہ جمہور اہل علم، صحابہ، تابعین، محدثین اور فقہاء کا مذہب ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ظہر کا وقت دو مثل سائے تک رہتا ہے، یعنی جب ہر چیز کا سایہ دگنا ہو جائے۔ لیکن یہ بات نقلی دلائل سے خالی ہے، اس لیے اس مسئلے میں امام صاحب کے شاگرد بھی ان کا ساتھ نہ دے سکے۔ بعض عقلی دلائل ہیں مگر صریح اور صحیح احادیث کے مقابلے میں عقلی دلائل کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ شاذ مذہب ہے۔ بعض احناف نے امام صاحب کی کچھ رعایت کرتے ہوئے مثل اول اور مثل ثانی کے مابین وقت کو ظہر و عصر دونوں کے لیے ناموزوں قرار دیا ہے، لیکن یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ ظہر کا آخر وقت اور عصر کا اول وقت متصل ہیں، درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔
➋عصر کا مختار وقت مثل ثانی پر ختم ہو جاتا ہے جب کہ مجبور و معذور کے لیے غروب آفتاب تک باقی رہتا ہے۔
➌مغرب کی نماز دونوں دن تقریباً ایک ہی وقت میں پڑھی کیونکہ مغرب کا وقت دیگر نمازوں کے اوقات کی نسبت کم ہوتا ہے اور غالباً اول وقت ہی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مقصد نہیں کہ فرض نماز سے قبل دو رکعت کی نفی کر دی جائے بلکہ وہ نماز بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ بہرحال اعتدال سے کام لینا چاہیے۔
➍پہلے دن کی نماز کے آغاز اور دوسرے دن کی نماز کے اختتام کا درمیانی وقت اس نماز کا پورا وقت ہے لیکن افضل وقت کون سا ہے؟ وہ عشاء کے علاوہ ہر نماز کا اول وقت ہے اور عشاء کو مؤخر کر کے پڑھنا افضل ہے۔
➎نماز کی اہمیت اور قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایسا عظیم الشان اور اہمیت کا حامل عمل ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو بھیج کر عملی مشق کرائی، دیگر احکام کی طرح صرف قول پر اکتفا نہیں کیا۔
➏نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر بذاتِ خود کوئی عمل مشروع قرار نہیں دے سکتے۔
➐اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ اس نے نمازوں کے اوقات وسیع رکھے، انہیں تنگ نہیں رکھا کہ کہیں لوگ مشقت میں نہ پڑجائیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 503]

Sunan an-Nasa'i Hadith 503 in Urdu