🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : إحفاء الشارب
باب: مونچھیں کٹانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 13 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥حبيب بن يسار الكندي
Newحبيب بن يسار الكندي ← زيد بن أرقم الأنصاري
ثقة
👤←👥يوسف بن صهيب الكندي
Newيوسف بن صهيب الكندي ← حبيب بن يسار الكندي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← يوسف بن صهيب الكندي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
13
من لم يأخذ شاربه فليس منا
جامع الترمذي
2761
من لم يأخذ من شاربه فليس منا
المعجم الصغير للطبراني
607
من لم يأخذ من شاربه فليس منا
سنن النسائى الصغرى
5050
من لم يأخذ شاربه فليس منا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5050 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5050
اردو حاشہ:
(1) مونچھیں نہ کاٹے یعنی کاٹنے کی ضرورت ہو، مثلاً: وہ منہ میں پڑنے لگیں۔ مشروب سے آلودہ ہوں وغیرہ: ورنہ ہر روز کاٹنا ضروری نہیں اور نہ ساری زندگی میں ایک آدھ دفعہ کاٹ لینا ہی کافی ہے۔
(2) ہم میں سے نہیں۔ یعنی ہمارے طریقۂ کار پر عمل پیرا نہیں، یا دیکھنےمیں مسلمان نہیں لگتا، یا تشبیہ مراد ہے کہ وہ غیر مسلموں جیسا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5050]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 13
مونچھ کترنا۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی مونچھ کے بال نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 13]
13۔ اردو حاشیہ:
➊ مونچھیں، بلوغت کا نشان ہیں، اس سے بچے اور بڑے میں تمیز ہوتی ہے، مگر یہ منہ کے اوپر ہوتی ہیں، زیادہ بڑی ہو جائیں تو کھانے پینے کی چیزوں کو لگیں گی۔ خود بھی آلودہ ہوں گی اور کھانے پینے کی چیزیں بھی گرد وغبار وغیرہ سمیت پیٹ میں جائیں گی، لہٰذا بالائی ہونٹ سے نیچے مونچھوں کو کاٹنا عقلی تقاضا ہے۔ شریعت اسلامیہ کا حکم بھی یہی، البتہ مونچھوں کے کنارے جو ڈاڑھی سے مل جائیں، بغیر کاٹے رکھے جا سکتے ہیں۔
➋ مذکورہ احادیث (نمبر 9 سے 11) امیں پانچ فطری امور ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہ پانچ چیزیں ہی فطرت میں داخل ہیں بلکہ دوسری احادیث میں ان کے علاوہ کچھ اور چیزوں کا بھی ذکر ہے، مثلاً: ایک روایت میں ہے: «عشر من الفطرہ» دس چیزیں فطرت سے ہیں۔ (صحيح مسلم، الطهارة، حديث: 261) ان کا ذکر ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 13]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2761
مونچھیں کترنے کا بیان۔
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی مونچھوں کے بال نہ لیے (یعنی انہیں نہیں کاٹا) تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2761]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقے کا مخالف ہے،
کیونکہ مونچھیں بڑھانا کفارومشرکین کا شعار ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2761]