🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : النهى عن حلق المرأة رأسها
باب: عورت کو سر منڈانے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 75 (914)، (تحفة الأشراف: 10085)، 18617) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥خلاس بن عمرو الهجري
Newخلاس بن عمرو الهجري ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← خلاس بن عمرو الهجري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن موسى الحرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن موسى الحرشي ← أبو داود الطيالسي
مقبول
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5052 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5052
اردو حاشہ:
اسلام اور انسانی فطرت کا تقاضاہ ہے کہ مرد اور عورت ظاہری امور میں مشابہت نہ رکھیں بلکہ دور سے ہی امتیاز ہونا چاہیے کہ یہ مرد ہے اور یہ عورت۔ مرد کے لیے شریعت نے سرمونڈنا اور بال کٹوانا جائز قرار دیا ہے، جبکہ عورت کے لیے نہ سر منڈوانا جائز ہے نہ بال کٹوانا ہی تاکہ مرد کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ اس کے علاوہ لمبے بال مرد کے کام کاج میں بھی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ سرڈھانپنے کی وجہ سے عورت کے لیے لمبے بال کوئی مسئلہ نہیں، اس لیے بال کٹوانا یا منڈوانا مردوں کے ساتھ خاص کردیا گیا اور سرکے بال رکھنا عورتوں کے ساتھ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5052]