🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : خاتم الذهب
باب: سونے کی انگوٹھی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5175
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: حَدَّثَنَا , قَال عُثْمَانُ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ: لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ،" نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ، وَلَا أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلَا رَاكِعًا". تَابَعَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا، بلکہ مجھے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشمی لباس پہننے سے، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۱؎۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قرآن نہ پڑھنے کی بات مرد عورت سب کے لیے عام ہے، بقیہ باتوں میں مخاطب صرف مرد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عبد الله بن حنين القرشي
Newعبد الله بن حنين القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الهاشمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن عبد الله الهاشمي ← عبد الله بن حنين القرشي
ثقة
👤←👥داود بن قيس القرشي، أبو سليمان
Newداود بن قيس القرشي ← إبراهيم بن عبد الله الهاشمي
ثقة
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← داود بن قيس القرشي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، أبو علي
Newعبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة
👤←👥سليمان بن سيف الطائي، أبو داود
Newسليمان بن سيف الطائي ← عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5594
نهى النبي عن الدباء والمزفت
صحيح مسلم
5171
نهى النبي عن أن ينتبذ في الدباء والمزفت
سنن أبي داود
3697
عن الدباء والحنتم والنقير والجعة
سنن النسائى الصغرى
5172
نهاني عن الدباء والحنتم وحلقة الذهب ولبس الحرير والقسي والميثرة الحمراء
سنن النسائى الصغرى
5592
نهى النبي عن الشرب في الدباء والحنتم والنقير والجعة نهانا عن حلقة الذهب ولبس الحرير ولبس القسي والميثرة الحمراء
سنن النسائى الصغرى
5175
نهى النبي عن الدباء والحنتم والجعة وعن حلق الذهب ولبس الحرير وعن الميثرة الحمراء
سنن النسائى الصغرى
5615
الدباء والحنتم
سنن النسائى الصغرى
5631
نهى عن الدباء والمزفت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5175 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5175
اردو حاشہ:
(1) ضحاک بن عثمان نے داؤد بن قیس کی متابعت اس طرح کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن حنین کے درمیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ ذکر کیا ہے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث: 5176 کی سند میں ہے۔ واللہ أعلم.
(2) میں نہیں کہتا مقصود یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے خطاب فرماتے ہوئے مفرد کے صیغے استعمال فرمائے تھے، لہٰذا میں بھی مفرد کے صیغے ہی استعمال کرتا ہوں، جمع کے نہیں ورنہ بیان شدہ چیزیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح سب مسلمانوں کے لیے حرام ہیں، گویا سونے اور ریشمی کپڑے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے۔
(3) کسم (کسمبھ) یہ سرخ رنگ کی ان اقسام میں شامل ہے جو مردوں کےلیے حرام ہیں۔ ہر رنگ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5175]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5172
سونے کی انگوٹھی کا بیان۔
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، وہ بولے: مجھے منع فرمایا: کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5172]
اردو حاشہ:
کدو کا برتن اور تارکول لگا ہوا مٹکا بے مسام ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں نبیذ بنایا جائے تو اس میں جلدی نشہ پیدا ہوجاتا تھا، اسی لیے لوگوں نے جاہلیت میں یہ برتن شراب بنانے کے لیے مخصوص کررکھے تھے، لہٰذا آپ نے ابتدا میں ان برتنوں کے نبیذ سے بھی روک دیا تھا، بعد میں اجازت دے دی بشرطیکہ نشہ پیدا نہ ہو۔ (فصیل اپنے مقام پر گزر چکی ہے)۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5172]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5592
نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، روغنی برتن، لکڑی کے برتن اور ہرے رنگ کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5592]
اردو حاشہ:
دیکھیے حدیث:5550۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5592]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5615
«جعہ» جو سے بنے مشروب کو کہتے ہیں، اور «جعہ» کی نبیذ کی ممانعت کا بیان۔
مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5615]
اردو حاشہ:
یہ نہیں پہلے تھی بعد میں آپ نے اجازت فرما دی کہ برتن کسی چیز کو حلا ل یا حرام نہیں کرتا، البتہ نشے سے بچو۔ اس حدیث کی متعلقہ باب سے کوئی مناسبت نہیں الا یہ کہ سابقہ حدیث کا ٹکڑا ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5615]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3697
شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3697]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اطباء کی اصطلاح میں آش جو (جو کا جوش دیا ہوا پانی) استعمال کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر اس میں کسی طرح نشے کے اثرات کا اندیشہ ہو تو حلال نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3697]