سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب : حديث أبي هريرة والاختلاف على قتادة
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 5192
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِخْصَرَةٌ , أَوْ جَرِيدَةٌ , فَضَرَبَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَلَا تَطْرَحُ هَذَا الَّذِي فِي إِصْبَعِكَ؟" فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ، فَرَمَى بِهِ , فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ؟" قَالَ: رَمَيْتُ بِهِ، قَالَ:" مَا بِهَذَا أَمَرْتُكَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَبِيعَهُ، فَتَسْتَعِينَ بِثَمَنِهِ". وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی یا ٹہنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کی انگلی پر مارا۔ اس شخص نے کہا: کیا وجہ ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم اسے نہیں پھینکو گے جو تمہارے ہاتھ میں ہے؟“ چنانچہ اس شخص نے اسے نکال کر پھینک دیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: ”انگوٹھی کیا ہوئی؟“ وہ بولا: میں نے اسے پھینک دی۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، میں نے تو تمہیں صرف اس بات کا حکم دیا تھا کہ اسے بیچ دو اور اس کی قیمت کو کام میں لاؤ“۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5192]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا جبکہ اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی یا شاخ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھڑی اس کی انگلی پر ماری تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ انگوٹھی پھینک نہیں دیتا جو تیری انگلی میں ہے؟“ اس آدمی نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اسے دیکھا تو پوچھا: ”انگوٹھی کدھر ہے؟“ اس نے کہا: وہ تو میں نے پھینک دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے یہ نہیں کہا تھا بلکہ میرا مقصد تو یہ تھا کہ تو اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے فائدہ اٹھا لے۔“ اور یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1927) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، رجل (من قومه): مجهول. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5192 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5192
اردو حاشہ:
امام صاحب نے فرمایا: یہ حدیث منکر‘ یعنی ضعیف ہے۔ اور اس کے منکر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا راوی مجہول ہے۔ یہ روایت صرف اسی کتاب میں ہے۔
امام صاحب نے فرمایا: یہ حدیث منکر‘ یعنی ضعیف ہے۔ اور اس کے منکر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا راوی مجہول ہے۔ یہ روایت صرف اسی کتاب میں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5192]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5192 in Urdu
اسم مبهم ← البراء بن عازب الأنصاري