سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب : حديث أبي هريرة والاختلاف على قتادة
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 5193
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ فِي يَدِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْرَعُهُ بِقَضِيبٍ مَعَهُ، فَلَمَّا غَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْقَاهُ، قَالَ:" مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ". خَالَفَهُ يُونُسُ رَوَاهُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ مُرْسَلًا ,
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ایک چھڑی سے جو آپ کے پاس تھی اس پر مارنے لگے، جب آپ کی توجہ ہٹ گئی تو انہوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی، آپ نے فرمایا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے تمہیں تکلیف دی اور تمہارا نقصان کیا“۔ یونس نے نعمان بن راشد کے خلاف اسے زہری سے انہوں نے ابوادریس سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5193]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ اسے اپنی چھڑی سے مارنے لگے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ کسی اور طرف ہوئی تو اس (ابوثعلبہ) نے اسے اتار پھینکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا خیال ہے کہ ہم نے تجھے (چھڑی مار کر) تکلیف دی اور تیرا نقصان بھی کیا۔“ یونس نے اس (نعمان بن راشد) کی مخالفت کی ہے، اس نے یہ روایت عن الزہری عن ابی ادریس (کی سند) سے مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11870، 19338)، مسند احمد (4/195)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5194-5197) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، نعمان بن راشد: تكلموا فى روايته عن الزهري فحديثه شاذ،وفيه علة أخري. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5193 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5193
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نعمان بن راشد نے روایت موصول بیان کی ہے، جبکہ یونس نے یہ روایت موصول کی بجائے مرسل بیان کی ہے جیسا کہ آئندہ حدیث 5194 میں ہے۔ لیکن نعمان بن راشد کی بیان کردہ موصول روایت غیر محفوظ ہے جبکہ یونس کی مرسل روایت محفوظ ہے کیونکہ زہری سے بیان کرنے میں یونس، نعمان کے مقابلے میں اوثق اور اثبت ہے۔ مزید برآں یہ کہ جلیل القدر آئمہ حدیث، مثلاً: امام بخاری، امام احمد، ابن معین، ابوحاتم، عقیلی، امام ابو داؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ وغیرہم جیسے معروف محدثین نے بھی نعمان بن راشد پرکلام کیا ہے۔
امام نسائی رحمہ اللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نعمان بن راشد نے روایت موصول بیان کی ہے، جبکہ یونس نے یہ روایت موصول کی بجائے مرسل بیان کی ہے جیسا کہ آئندہ حدیث 5194 میں ہے۔ لیکن نعمان بن راشد کی بیان کردہ موصول روایت غیر محفوظ ہے جبکہ یونس کی مرسل روایت محفوظ ہے کیونکہ زہری سے بیان کرنے میں یونس، نعمان کے مقابلے میں اوثق اور اثبت ہے۔ مزید برآں یہ کہ جلیل القدر آئمہ حدیث، مثلاً: امام بخاری، امام احمد، ابن معین، ابوحاتم، عقیلی، امام ابو داؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ وغیرہم جیسے معروف محدثین نے بھی نعمان بن راشد پرکلام کیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5193]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5193 in Urdu
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو ثعلبة الخشني