🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب : مقدار ما يجعل في الخاتم من الفضة
باب: انگوٹھی میں چاندی کتنی مقدار میں ہونی چاہئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5198
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟"، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ:" مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟" , فَطَرَحَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ:" مِنْ وَرِقٍ , وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں؟ یہ سن کر اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی۔ پھر پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو محسوس رہی ہے؟ اس نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی اور بولا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی بناؤں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کی، لیکن ایک مثقال سے کم رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «الخاتم 4 (4223)، سنن الترمذی/اللباس 43 (1786)، (تحفة الأشراف: 1982)، مسند احمد (5/359) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو طیبہ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں وہم ہو جایا کرتا تھا، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلم السلمي، أبو طيبة
Newعبد الله بن مسلم السلمي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
مقبول
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← عبد الله بن مسلم السلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين
Newأحمد بن سليمان الرهاوي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1785
ما لي أرى عليك حلية أهل النار ثم جاءه وعليه خاتم من صفر فقال ما لي أجد منك ريح الأصنام ثم أتاه وعليه خاتم من ذهب فقال مالي أرى عليك حلية أهل الجنة قال من أي شيء أتخذه قال من ورق ولا تتمه مثقالا
سنن أبي داود
4223
ما لي أجد منك ريح الأصنام
سنن النسائى الصغرى
5198
ما لي أرى عليك حلية أهل النار
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5198 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5198
اردو حاشہ:
محقق کتاب کا اس روایت کی سند کو حسن کہنا محل نظر ہے کیونکہ اس کی سند میں عبداللہ بن مسلم راجح قول کے مطابق ضعیف ہے اور کسی نے اس کی متابعت بھی نہیں کی۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي:38؍283) تاہم اس میں لوہے کی انگوٹھی کو جہنمیوں کا زیور قراردینے والا جملہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھئے، حدیث: 5208 کے فوائد۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5198]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4223
لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4223]
فوائد ومسائل:
اس مقدار کی حد تک چاندی کی انگوٹھی مرد کے لیئے جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4223]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1785
لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان۔
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1785]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ حافظہ کے کمزور ہیں،
انہیں اکثر وہم ہو جایا کرتا تھا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1785]