سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب : التشديد في لبس الحرير
باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
حدیث نمبر: 5310
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ سَنَةَ سَبْعٍ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِينِي , فَقُلْتُ لَهَا: هَذَا ابْنُ عُمَرَ: , فَاتَّبَعَتْهُ تَسْأَلُهُ , وَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا يَقُولُ , قَالَتْ: أَفْتِنِي فِي الْحَرِيرِ؟ , قَالَ:" نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا: یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، (ان سے پوچھ لو) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی: مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 7350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥علي بن عبد الله الأزدي، أبو عبد الله علي بن عبد الله الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← علي بن عبد الله الأزدي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥الصعق بن حزن البكري، أبو عبد الله الصعق بن حزن البكري ← قتادة بن دعامة السدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي ← الصعق بن حزن البكري | ثقة ثبت تغير في آخر عمره | |
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق إبراهيم بن يعقوب السعدي ← محمد بن الفضل السدوسي | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5310 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5310
اردو حاشہ:
”منع فرمایا ہے“ یعنی مردوں کو نہ کہ عورتوں کہ جیسے کہ صحیح اور صریح احادیث گزر چکی ہیں۔
”منع فرمایا ہے“ یعنی مردوں کو نہ کہ عورتوں کہ جیسے کہ صحیح اور صریح احادیث گزر چکی ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5310]
علي بن عبد الله الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي