🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : الاستعاذة من فتنة الصدر
باب: سینے دل کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5445
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمُرَ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی، کنجوسی، سینے (دل) کے فتنے اور قبر کے عذاب سے (اللہ تعالیٰ کی) پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1539)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3844)، (تحفة الأشراف: 10617)، مسند احمد (1/22، 54)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5482-5485، 5499)، وفي الیوم واللیلة 53 (1304) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عمرو بن ميمون الأودي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newعمرو بن ميمون الأودي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن ميمون الأودي
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3482
اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعاء لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع
سنن النسائى الصغرى
5445
يتعوذ من أربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ودعاء لا يسمع ونفس لا تشبع
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5445 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5445
اردو حاشہ:
(1) باپ کا مقصد بالکل واضح ہے کہ مذکورہ تمام بیماریوں سے چھٹکارے کے لیے اللہ تعالیٰ کا سہارا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سہارے کے بغیر ان موذی اور مہلک بیماریوں سے بچنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ پھر جس سے یہ روحانی بیماریاں لگ جائیں تو اس کے لیے جہنم اور آگ کا عذاب ہے۔ أعا ذنا اللہ منه.
(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ دعا پڑھنا اور امت کو اس کی تعلیم دینا صرف اس بنا پر تھا کہ امت کو عملاً یہ بتایا جائے کہ ان کی تمام بیماریوں کا صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا‘ اس کا سہارا لینا اور اس سے امان طلب کرنے ہی میں ہے۔لوگ مصائب سے بچنے کےلیے تعویذوں اور خود ساختہ وظائف کا سہارہ لیتے ہیں ‘حالانکہ تمام مشکلات کا حل رسوللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اذکار میں ہے۔ انھی کو اختیار کرنا چاہیے تا کہ روحانی اور جسمانی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔
(3) بزدلی سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان قربان کرنے سے بھاگنا ہے اور بخل سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال کرنے سے کنی کترانا ہے۔
(4) سینے کے فتنے سے مراد شیطانی وساوس‘ باطل عقائد اور دل کی خرابیاں‘ مثلاً: حسد‘ کینہ بغض اور عناد وغیرہ ہیں۔ پیچھے یہ ہو چکا ہے کہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استعاذہ اصل امت کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ آپ تو رذائل سے قطعاً پاک و صاف تھے۔ آپ کے بارہ میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5445]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3482
باب:۔۔۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو (یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو)، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3482]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو (یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو)،
اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے،
اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو،
اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچا ئے،
اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3482]