🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : الاستعاذة من المغرم
باب: قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5474
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ هُوَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ التَّعَوُّذَ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُكْثِرُ التَّعَوُّذَ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، فَقَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرض اور معصیت (گناہ) سے کثرت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ قرض اور معصیت (گناہ) سے کثرت سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو جب باتیں کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے، اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سليمان بن سليم الكناني، أبو سلمة
Newسليمان بن سليم الكناني ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← سليمان بن سليم الكناني
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2397
الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
سنن النسائى الصغرى
5456
من غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
سنن النسائى الصغرى
5474
إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5474 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5474
اردو حاشہ:
دیکھیے، روایت: 5456۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5474]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5456
قرض اور معصیت (گناہ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرض اور معصیت (گناہ) سے پناہ مانگتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو قرض دار ہو گا وہ بولے گا تو جھوٹ بولے گا اور وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5456]
اردو حاشہ:
خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے اس کے پاس ادائیگی کے لیے کچھ نہیں ہوتا مگر جان چھڑانے کے لیے اسے جان بوجھ کر جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور ممکن وعدہ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں قرض سے مطلق یا معمولی قرض مراد نہیں بلکہ وہ بھاری قرض ہے جس کی ادائیگی اس کے لیے نا ممکن بن جائے۔ اس روایت میں گناہ سے مراد بھی وہ گناہ ہے جو انسان جان بوجھ کر دھڑلے سے کرے‘ یا اس سے مراد وہ گناہ ہے جو قرض کے نتیجے میں مقروض کو کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ابھی گزرا۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5456]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2397
2397. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران نماز میں دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ!میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کسی کہنے والے نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ قرض سے بکثرت پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات بات پر جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2397]
حدیث حاشیہ:
(1)
تاوان میں پڑنے کی کئی صورتیں ہیں:
مثلاً:
مقروض ہو گیا، محتاج ہو گیا یا کسی مالی مشکل میں پھنس گیا۔
جب آدمی اس طرح کی صورتِ حال سے دوچار ہو جائے تو قرض خواہ سے کہتا ہے آپ فکر نہ کریں، انتظام ہو گیا ہے، اتنے دنوں تک آپ کی رقم ادا کر دی جائے گی، لیکن اسے پورا نہیں کر پاتا بلکہ وعدہ خلافی اس کا معمول بن جاتی ہے، ایسے انسان کی امانت و دیانت اور صداقت وغیرہ مجروح ہو جاتی ہے۔
(2)
حضرت مہلب فرماتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان ذرائع سے بھی پناہ مانگنی چاہیے جو انسان کے لیے گناہ اور وعدہ خلافی کا باعث بنیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض سے اس لیے پناہ مانگی ہے کہ یہ جھوٹ اور وعدہ خلافی کا ذریعہ ہے، دوسرا اس سے ذلت و رسوائی اور قرض خواہ کی طرف سے ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 77/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2397]