علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب : ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ". خَالَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، سنن الترمذی/الجنائز 60 (1054)، الإضاحي 14 (1510)، الأشربة 6 (1869)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 3405)، (تحفة الأشراف: 1932)، مسند احمد (5/356، 359، 361) (صحیح) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور تھے، اس لیے غلطی کر جاتے تھے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے، جو آگے کی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← سماك بن حرب الذهلي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة متقن | |
👤←👥محمد بن إسماعيل بن علية، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن إسماعيل بن علية ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5207
| نهى رسول الله عن النبيذ إلا في سقاء فاشربوا في الأسقية كلها ولا تشربوا مسكرا |
صحيح مسلم |
5209
| نهى رسول الله عن الأشربة في ظروف الأدم فاشربوا في كل وعاء غير أن لا تشربوا مسكرا |
صحيح مسلم |
5208
| نهى رسول الله عن الظروف وإن الظروف أو ظرفا لا يحل شيئا ولا يحرمه وكل مسكر حرام |
جامع الترمذي |
1869
| نهيتكم عن الظروف وإن ظرفا لا يحل شيئا ولا يحرمه كل مسكر حرام |
سنن ابن ماجه |
3405
| نهيتكم عن الأوعية فانتبذوا فيه واجتنبوا كل مسكر |
سنن النسائى الصغرى |
5657
| كنت نهيتكم عن الأوعية فانتبذوا فيما بدا لكم وإياكم وكل مسكر |
سنن النسائى الصغرى |
5681
| نهى عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5681 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5681
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت میں ابوعوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے۔ یہ مخالفت سند میں بھی ہے اور متن میں بھی جیسا کہ آئندہ روایت سے یہ مخالف واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے۔
(2) گویا اصل روایت اس طرح ہے۔ اس ضعیف راوی نے سند بدل دی اور روایت کے الفاظ بھی لہٰذا وہ ضعیف روایت کسی بھی لحاظ سے قابل استدلال نہیں۔ محقق کتاب کا اسے صحیح کہنا درست نہیں۔
(1) مذکورہ روایت میں ابوعوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے۔ یہ مخالفت سند میں بھی ہے اور متن میں بھی جیسا کہ آئندہ روایت سے یہ مخالف واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے۔
(2) گویا اصل روایت اس طرح ہے۔ اس ضعیف راوی نے سند بدل دی اور روایت کے الفاظ بھی لہٰذا وہ ضعیف روایت کسی بھی لحاظ سے قابل استدلال نہیں۔ محقق کتاب کا اسے صحیح کہنا درست نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5681]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5208
ابن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا اور ظروف یا ظرف (برتن) کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5208]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مختلف برتنوں میں حرمت شراب کے ساتھ نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا تھا،
کیونکہ ان میں نبیذ جلد نشہ آور حد تک پہنچ سکتا تھا اور شراب کی یاد تازہ کر سکتا تھا،
نیز شراب کے عادی ہونے والوں کو اس کے نشہ آور حد تک پہنچنے کا احساس نہیں ہوتا تھا،
اس لیے سد ذریعہ کے طور پر ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا گیا،
لیکن جب شراب کی حرمت کی بنا پر شراب پینے کی عادت چھوٹ گئی اور نشہ آور اشیاء کی حرمت دلوں میں بیٹھ گئی اور اس بات کا خطرہ نہ رہا کہ نبیذ کے بہانہ شراب پی لی جائے گی،
(کیونکہ نبیذ میں سکر کا آغاز ہو چکا ہو گا اور وہ سمجھیں گے نشہ پیدا نہیں ہوا)
تو پھر ممنوعہ برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی،
کیونکہ ممانعت کا سبب زائل ہوگیا اور لوگوں کو ان برتنوں کی ضرورت تھی۔
فوائد ومسائل:
مختلف برتنوں میں حرمت شراب کے ساتھ نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا تھا،
کیونکہ ان میں نبیذ جلد نشہ آور حد تک پہنچ سکتا تھا اور شراب کی یاد تازہ کر سکتا تھا،
نیز شراب کے عادی ہونے والوں کو اس کے نشہ آور حد تک پہنچنے کا احساس نہیں ہوتا تھا،
اس لیے سد ذریعہ کے طور پر ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا گیا،
لیکن جب شراب کی حرمت کی بنا پر شراب پینے کی عادت چھوٹ گئی اور نشہ آور اشیاء کی حرمت دلوں میں بیٹھ گئی اور اس بات کا خطرہ نہ رہا کہ نبیذ کے بہانہ شراب پی لی جائے گی،
(کیونکہ نبیذ میں سکر کا آغاز ہو چکا ہو گا اور وہ سمجھیں گے نشہ پیدا نہیں ہوا)
تو پھر ممنوعہ برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی،
کیونکہ ممانعت کا سبب زائل ہوگیا اور لوگوں کو ان برتنوں کی ضرورت تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5208]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5209
ابن بریدہ اپنے باپ بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں چمڑے کے برتنوں میں مشروبات پینے سے منع کیا تھا، اب ہر برتن میں پیو، لیکن نشہ آور چیز نہ پیو۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5209]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس روایت میں حرف استثناء چھوٹ گیا ہے،
اس لیے مفہوم الٹ ہو گیا ہے،
اصل عبارت یہ ہے،
"كنت نهيتكم عن الاشربة الأ فی ظروف الادم،
" یہی روایت سنن ابی داود نمبر 3698 میں اس طرح ہے،
”نهيتكم عن الاشربة ان تشربوا الا فی ظروف الادم۔
“ جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہاں الا رہ گیا ہے،
معنی ہے میں نے تمہیں چمڑے کے ظروف کے سوا میں مشروب پینے سے روک دیا تھا۔
فوائد ومسائل:
اس روایت میں حرف استثناء چھوٹ گیا ہے،
اس لیے مفہوم الٹ ہو گیا ہے،
اصل عبارت یہ ہے،
"كنت نهيتكم عن الاشربة الأ فی ظروف الادم،
" یہی روایت سنن ابی داود نمبر 3698 میں اس طرح ہے،
”نهيتكم عن الاشربة ان تشربوا الا فی ظروف الادم۔
“ جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہاں الا رہ گیا ہے،
معنی ہے میں نے تمہیں چمڑے کے ظروف کے سوا میں مشروب پینے سے روک دیا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5209]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5681 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي