🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : الاكتفاء بالإقامة لكل صلاة
باب: ہر نماز کے لیے صرف اقامت پر اکتفاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 664
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا. ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی (پھر) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، (پھر) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے (اور) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 623 (صحیح) (اس کے راوی ’’ابو الزبیر‘‘ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، اور ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ان کے والد ’’ابن مسعود‘‘ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (623). والحديث السابق (662) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي
ثقة فاضل
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← نافع بن جبير النوفلي
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة حافظ
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 664 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 664
664 ۔ اردو حاشیہ:
➊ پیچھے گزر چکا ہے کہ بے وقت اذان سے چونکہ دوسرے لوگوں کو اشتباہ کا خطرہ ہو سکتا ہے، لہٰذا موقع محل کا لحاظ رکھا جائے، مثلاً: اگر کسی نماز کا وقت شروع ہوا ہے تو اذان کہہ کر فوت شدہ نمازیں اور وقتی نماز پڑھ لی جائے جیسا کہ حدیث: 663 میں ہے اور اگر کسی نماز کا وقت نہیں رہا، وقت قریب الاختتام ہے تو فوت شدہ نمازیں پہلے پڑھ لی جائیں، پھر وقتی نماز کے لیے اذان کہہ لی جائے جیسا کہ حدیث: 662 میں ہے اور اگر سب ہی قضا ہیں اور کسی نماز کا وقت نہیں تو پھر سب کے لیے صرف اقامت ہی کہہ لی جائے، جیسے حدیث: 664 میں ہے اور اگر صحرا ہے، کسی کے لیے اشتباہ کا خطرہ ممکن نہیں تو کوئی بھی وقت ہو، اذان کہہ کر فوت شدہ نماز پڑھ لی جائے جیسا کہ حدیث: 622 وغیرہ میں ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ صحیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صرف عصر کی نماز فوت ہونے کا ذکر ہے۔ [صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4111]
وہ الگ واقعہ ہو گا کیونکہ جنگ خندق کئی دن ہوتی رہی۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 664]