🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : ذكر نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في أعطان الإبل
باب: اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 736]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 12 (769) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9651)، مسند احمد 4/85، 86، و5/54، 55، 56 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زيادصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥أشعث بن عبد الملك الحمراني، أبو هانئ
Newأشعث بن عبد الملك الحمراني ← الحسن البصري
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← أشعث بن عبد الملك الحمراني
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
736
عن الصلاة في أعطان الإبل
سنن ابن ماجه
769
صلوا في مرابض الغنم لا تصلوا في أعطان الإبل فإنها خلقت من الشياطين
سنن نسائی کی حدیث نمبر 736 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 736
736 ۔ اردو حاشیہ: اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع کی وجہ نجاست نہیں ورنہ بکریوں کے باڑے میں بھی منع ہونی چاہیے، حالانکہ اس میں نماز پڑھنے کی صراحتاً اجازت آئی ہے۔ فعلی روایت بھی گزر چکی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 703) نہی کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اونٹ کو شیطان الدواب کہا گیا ہے، یعنی یہ بڑا شریر جانور ہے۔ طاقت ور اور ضدی ہے۔ نمازی کو ہر وقت دھڑکا لگا رہے گا کہ کہیں منہ میں نہ ڈال لے یا اوپر ہی نہ بیٹھ جائے یا ٹانگ نہ دے مارے تو اس کی توجہ نماز کی بجائے اونٹوں کی طرف لگی رہے گی۔ اس طرح خشوع و خضوع نہ رہے گا۔ اگر باڑہ اونٹوں سے خالی ہو تو کیا نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ ظاہر تو یہ ہے کہ پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ مذکورہ خطرہ نہیں رہا، مگر ممکن ہے کہ شیطان کی طرف نسبت کی بنا پر خالی باڑے میں شیطانی اثرات رہتے ہوں، اس لیے ظاہر الفاظ کے اعتبار سے اجتناب بہتر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 736]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث769
اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 769]
اردو حاشہ:
فائدہ:
شیطانوں سے پیدا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان میں شرارت کی عادت پائی جاتی ہے۔
اونٹ کا کینہ مشہور ہے اس لیے خطرہ رہتا ہے کہ موقع پا کر نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔
ورنہ پیشاب اور منگنیاں تو بکریوں اور اونٹوں دونوں کے باڑے میں ہوتی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 769]

Sunan an-Nasa'i Hadith 736 in Urdu