🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ : الأَمْرِ بِالدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ
باب: سترہ سے قریب رہنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 749
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعَ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ".
سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کر سکے“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 749]
حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی طرف نماز پڑھے تو اس سے قریب کھڑا ہو (تاکہ) شیطان اس کی نماز کو قطع نہ کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 107 (695)، (تحفة الأشراف: 4648)، مسند احمد 4/2 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن أبي حثمة الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو عبد الرحمنصحابي صغير
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري
ثقة فاضل
👤←👥صفوان بن سليم القرشي، أبو عبد الله، أبو الحارث
Newصفوان بن سليم القرشي ← نافع بن جبير النوفلي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← صفوان بن سليم القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسحاق بن منصور الكوسج
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
749
إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته
سنن أبي داود
695
إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته
مسندالحميدي
405
إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته
سنن نسائی کی حدیث نمبر 749 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 749
749 ۔ اردو حاشیہ:
➊ پیچھے ذکر ہو چکا ہے کہ سترہ شیطان سے بھی حفاظت کرتا ہے کیونکہ شیطان جہاں نمازی کے خیالات منتشر ہے، وہاں نماز توڑنے کی بھی کوشش کرتا ہے جبکہ سترہ اس سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
➋ سترہ سجدے کی جگہ کے قریب ہی ہونا چاہیے تاکہ نظر سجدے کی جگہ سے آگے تجاوز نہ کرے۔ اگر سترہ دور ہو گا تو نظر آگے جائے گی اور شیطانی وار سے بچاؤ بھی مشکل ہو گا جس سے اصل مقصد فوت ہو جائے گا، اس لیے نماز پڑھنے والے کو سترہ کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے تاکہ خود بھی معصیت کا شکار نہ ہو اور دوسرے کو بھی موقع نہ دے۔
➌ آج کل اس سنت پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے اس کی اشاعت کی خوب ضرورت ہے۔ جس حدیث میں یہ آتا ہے کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، وہ سنداً ضعیف ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے: [ضعیف سنن أبي داود، (مفصل) للألباني: 265/9، حدیث: 116]

[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 749]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:405
405- سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص سترہ کی جانب رخ کرکے نماز ادا کرلے، تو وہ اس کے قریب رہے، تو شیطان اس کی نماز کو منقطع نہیں کرے گا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:405]
فائدہ:
نیز جب کوئی سترہ کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کی نماز توڑ دیتا ہے۔ مذکورہ مسند حمیدی کی حد یث صحیح ہے۔ رواه أبو داود (695)، والنسائي (748) وصححه ابن خزيمة (803) وابن حبان (2373)، والحاكم (1/ 251)، وقال: «صـحـيـح عـلى شرط الشيخين» والنووى [خلاصة الاحكام 1732]
وقـال الـعـقيلي: «وهذا ثابت الضعفاء» 4/ 196 و قـال ابـن عبـد البر: ”حديث حسن“ التمهيد 4/ 195 وقـال ابـن الـقـيـم: ”رجـال إسناده رجال مسلم [تـهـذيـب الـسـنـن ـ وصـحـحـه الالباني] [الصحيحة 1373 صحيح ابي داود 692] والاعظمي [الجامع الكامل ح: 2546] ، و نبيل بن منصور [انيس السارى: 39/1]

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز سترہ کے قریب ہو کر پڑھنی چاہیے ورنہ خطرہ ہے کہ شیطان سترہ کے بغیر نماز پڑھنے والے کی نماز توڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سترہ کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 405]

Sunan an-Nasa'i Hadith 749 in Urdu