سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : ذكر ما يقطع الصلاة وما لا يقطع إذا لم يكن بين يدى المصلي سترة
باب: نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو کون سی چیز نماز توڑ دیتی ہے اور کون سی نہیں توڑتی؟
حدیث نمبر: 752
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ". قَالَ يَحْيَى: رَفَعَهُ شُعْبَةُ.
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا: کون سی چیز نماز کو باطل کر دیتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے تھے: حائضہ عورت اور کتا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 110 (703)، سنن ابن ماجہ/إقامة 38 (949)، مسند احمد 1/437، (تحفة الأشراف: 5379)، (من طریق شعبة مرفوعاً) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥جابر بن زيد الأزدي، أبو الشعثاء جابر بن زيد الأزدي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← جابر بن زيد الأزدي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 752 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 752
752 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت میں حضرت یحیی کے دو استاد ہیں: شعبہ اور ہشام۔ ہشام نے تو اس روایت کو موقوف (حضرت ابن عباس کا فتویٰ) ہی بیان کیا ہے مگر حضرت شعبہ نے مرفوع بھی بیان کیا ہے، یعنی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ دونوں میں کوئی تضاد نہییں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بیان فرمائے ہیں اور خود بھی یہی فتویٰ دیا ہے اور ایسے عام ہوتا ہے۔
➋ حیض والی عورت سے مراد بالغ عورت ہے، یعنی بچی کے گزرنے سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ بالغ عورت کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔
➊ اس روایت میں حضرت یحیی کے دو استاد ہیں: شعبہ اور ہشام۔ ہشام نے تو اس روایت کو موقوف (حضرت ابن عباس کا فتویٰ) ہی بیان کیا ہے مگر حضرت شعبہ نے مرفوع بھی بیان کیا ہے، یعنی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ دونوں میں کوئی تضاد نہییں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بیان فرمائے ہیں اور خود بھی یہی فتویٰ دیا ہے اور ایسے عام ہوتا ہے۔
➋ حیض والی عورت سے مراد بالغ عورت ہے، یعنی بچی کے گزرنے سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ بالغ عورت کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 752]
Sunan an-Nasa'i Hadith 752 in Urdu
جابر بن زيد الأزدي ← عبد الله بن العباس القرشي