علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. باب : المنفرد خلف الصف
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 871
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» (الحجر: ۲۴) ”ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”ایک بہت خوب صورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی۔ کچھ (نیک) لوگ قصداً پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے تاکہ وہ نظر نہ آئے۔ اور کچھ (منافق قسم کے) لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہتے تھے حتیٰ کہ آخری صف میں کھڑے ہوتے (تاکہ اسے دیکھیں۔) پھر جب رکوع کرتے تو بغل کے نیچے سے اسے دیکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ﴾ [سورة الحجر: 24] ”ہم خوب جانتے ہیں تم میں سے آگے رہنے والوں کو اور خوب جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو۔““ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجر 15 (3122)، سنن ابن ماجہ/إقامة 68 (1046)، (تحفة الأشراف: 5364)، مسند احمد 1/305 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اسے پیچھے تنہا پڑھنے پر محمول کیا ہے لیکن حدیث صراحۃً اس پردلالت نہیں کرتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3122) ابن ماجه (1046) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
871
| تصلي خلف رسول الله حسناء من أحسن الناس قال فكان بعض القوم يتقدم في الصف الأول لئلا يراها ويستأخر بعضهم حتى يكون في الصف المؤخر فإذا ركع نظر من تحت إبطه فأنزل الله ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين |
جامع الترمذي |
3122
| تصلي خلف رسول الله حسناء من أحسن الناس فكان بعض القوم يتقدم حتى يكون في الصف الأول لئلا يراها ويستأخر بعضهم حتى يكون في الصف المؤخر فإذا ركع نظر من تحت إبطيه فأنزل الله ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 871 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 871
871 ۔ اردو حاشیہ: یہ رویات ضعیف ہے، اس لیے آیت کی یہ شانِ نزول صحیح نہیں، تاہم سیاق و سباق کی رو سے آیت کے مناسب معنی یہ ہیں کہ ہم ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک مر چکے ہیں اور انہیں بھی جو ابھی زندہ ہیں یا قیامت تک آئیں گے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 871]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3122
سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ (الحجر: ۲۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3122]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ (الحجر: ۲۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3122]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں۔
(الحجر: 24)
وضاحت:
1؎:
ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں۔
(الحجر: 24)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3122]
Sunan an-Nasa'i Hadith 871 in Urdu
أوس بن عبد الله الربعي ← عبد الله بن العباس القرشي