🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : جامع ما جاء في القرآن
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 942
أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَيٍّ قال: مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" نَعَمْ" وَقَالَ الْآخَرُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ: جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ:" مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے (اللہ سے) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، (اور کہا کہ) ہر حرف شافی و کافی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8)، مسند احمد 5/114، 122 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري
صحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
941
أنزل القرآن على سبعة أحرف كلهن شاف كاف
سنن النسائى الصغرى
942
بلغ سبعة أحرف كل حرف شاف كاف
صحيح مسلم
1904
اقرأه على سبعة أحرف لك بكل ردة رددتكها مسألة تسألنيها فقلت اللهم اغفر لأمتي اللهم اغفر لأمتي وأخرت الثالثة
صحيح مسلم
1906
الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرف أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك ثم أتاه الثانية فقال إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرفين فقال أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك ثم جاءه الثالثة فقال إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القر
جامع الترمذي
2944
القرآن أنزل على سبعة أحرف
سنن أبي داود
1477
بلغ سبعة أحرف ليس منها إلا شاف كاف إن قلت سميعا عليما عزيزا
سنن أبي داود
1478
تقرئ أمتك على سبعة أحرف أيما حرف قرءوا عليه فقد أصابوا
المعجم الصغير للطبراني
1077
اقرأ القرآن على سبعة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 942 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 942
942 ۔ اردو حاشیہ: جب بھی کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے تواللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنا چاہیے، یعنی قرآن و سنت سے رہنمائی لینی چاہیے، اپنے اجتہادات اور قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 942]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1477
قرآن مجید کے سات حرف پر نازل ہونے کا بیان۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چنانچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم «سميعا عليما» کہو یا «عزيزا حكيما» جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1477]
1477. اردو حاشیہ: یہ روایت شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔ تاہم اواخر آیات میں صفات الٰہیہ میں تغیر کی رخصت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل تھی۔ امت میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ متواتر قراءت کا التزام واجب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1477]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1904
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آ کر نماز پڑھنے لگا اور اس نے ایسی قراءت کی جو میرے لئے غیر مانوس اور اجنبی تھی۔ پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے ایسے انداز سے قراءت کی جو پہلے آدمی سے جدا تھی، جب ہم سب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے عرض کیا، اس نے ایسے لہجے اور انداز سے قراءت کی جو میرے لئے غیر مانوس اور اجنبی تھی،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1904]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
سُقِطَ فِيْ نَفْسِيْ مِنَ التَّكْذِيْبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ:
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں آدمیوں کی قراءت کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کا اس شدت اور زور سے وسوسہ پیدا کیا کہ اتنا شدید وسوسہ جاہلیت کے دور میں بھی میرے دل میں پیدا نہیں ہوا تھا۔
(2)
ضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ:
(جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے سے میرے دل کی کیفیت بھانپ لی،
تو میرے دل سے شیطانی وسوسے اور حق کے بارے میں اس کے پیدا کردہ شک و شبہ کو دور کرنے کے لیے)
میرے سینہ پر ہاتھ مارا،
تاکہ مجھے اطمینان اور تسکین حاصل ہو جائے۔
(3)
فَفِضْتُ عَرَقاً:
تو میں اللہ کے ڈر اور خوف سے پسینہ سے شرابور ہو گیا،
اور میری تمام حیرت اور پریشانی ختم ہو گئی اور میرا دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت پر جم گیا۔
(4)
مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيْهَا:
اپنی ہر عرض اور ہر درخواست پر ایک ایک دعا مانگ سکتے ہو،
جس کی قبولیت قطعی اور یقینی ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ درخواست کی تھی۔
اس لیے دو دفعہ اپنی امت کے لیے مغفرت کی دعا کی اور تیسری عرض کی دعا کو قیامت کے لیے شفاعت کبریٰ کے لیے محفوظ کر لیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں پہلی دفعہ کو نظرانداز کر دیا گیا ہے کیونکہ اس میں جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کرنے پر،
جا کر پوچھ کر آتے رہے ہیں،
آگے اس دفعہ کو شمار کیا گیا تو چوتھی دفعہ آنے کا تذکرہ کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1904]