🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ما جاء في المحل والمحلل له
باب: حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ الْأَيَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَا: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ حَدِيثٌ مَعْلُولٌ، وَهَكَذَا رَوَى أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ: الشَّعْبِيُّ، عنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَائِمِ، لِأَنَّ مُجَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا قَدْ وَهِمَ فِيهِ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وغير واحد، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی اور جابر رضی الله عنہما کی حدیث معلول ہے،
۲- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے،
۳- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں،
۴- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد الله عن علي» روایت کی ہے، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے،
۵- اور اسے مغیرہ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے،
۶- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف من حدیث جابر، ومن حدیث علی أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح 16 (2076)، سنن ابن ماجہ/النکاح 33 (1934)، (تحفة الأشراف: 2348و10034)، مسند احمد (1/87) (صحیح) شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ جابر کی حدیث میں ”مجاہد“ اور علی رضی الله عنہ کی حدیث میں ”حارث اعور“ ضعیف ہیں)»
وضاحت: ۱؎: «محلل» وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے، اور «محلل لہ» سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں، اور طریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں، حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1535)
قال الشيخ زبير على زئي:(1119) إسناده ضعيف /د 2076، جه 1935
مجالد ضعيف (تقدم: 653) ولأصل الحديث شواھد كثيرة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥الحارث بن عبد الله الأعور، أبو زهير
Newالحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي
متهم بالكذب
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← الحارث بن عبد الله الأعور
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم
Newالمغيرة بن مقسم الضبي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة مدلس
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← المغيرة بن مقسم الضبي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن أبي طالب الهاشمي ← عامر الشعبي
صحابي
👤←👥الحارث بن عبد الله الأعور، أبو زهير
Newالحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي
متهم بالكذب
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← الحارث بن عبد الله الأعور
ثقة
👤←👥مجالد بن سعيد الهمداني، أبو سعيد، أبو عمير، أبو عمرو
Newمجالد بن سعيد الهمداني ← عامر الشعبي
ضعيف الحديث
👤←👥أشعث بن عبد الرحمن اليامي
Newأشعث بن عبد الرحمن اليامي ← مجالد بن سعيد الهمداني
مقبول
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن أبي طالب الهاشمي ← أشعث بن عبد الرحمن اليامي
صحابي
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥مجالد بن سعيد الهمداني، أبو سعيد، أبو عمير، أبو عمرو
Newمجالد بن سعيد الهمداني ← عامر الشعبي
ضعيف الحديث
👤←👥أشعث بن عبد الرحمن اليامي
Newأشعث بن عبد الرحمن اليامي ← مجالد بن سعيد الهمداني
مقبول
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← أشعث بن عبد الرحمن اليامي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1119
لعن المحل والمحلل له
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1119 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1119
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
محلل وہ شخص ہے جوطلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح ومباشرت کرے،
اورمحلل لہ سے پہلا شوہرمرادہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں،
اورطریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرناچاہتاہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اورحرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے،
جمہوراس کی حرمت کے قائل ہیں،
حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔

نوٹ:

شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ جابر کی حدیث میں مجاہد اور علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حارث اعور ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1119]