🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب ما جاء في النهى عن نكاح الشغار
باب: نکاح شغار کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ نِكَاحَ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ، وَلَا صَدَاقَ بَيْنَهُمَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: نِكَاحُ الشِّغَارِ مَفْسُوخٌ، وَلَا يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَاقًا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ قَالَ: يُقَرَّانِ عَلَى نِكَاحِهِمَا وَيُجْعَلُ لَهُمَا صَدَاقُ الْمِثْلِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے،
۳- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کر دیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کر لیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے،
۵- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کر دیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 28 (5112)، صحیح مسلم/النکاح 7 (1415)، سنن ابی داود/ النکاح 15 (2074)، سنن النسائی/النکاح 61 (3337)، سنن ابن ماجہ/النکاح 16 (1883)، (تحفة الأشراف: 8323) موطا امام مالک/النکاح 11 (24)، مسند احمد (2/، 62)، سنن الدارمی/النکاح 9 (2226) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیل 4 (6960)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) سنن النسائی/النکاح 60 (3336)، مسند احمد (2/19) من ہذا الوجہ۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1883)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن موسى الأنصاري، أبو موسى
Newإسحاق بن موسى الأنصاري ← معن بن عيسى القزاز
ثقة متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5112
الشغار الشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته ليس بينهما صداق
صحيح البخاري
6960
الشغار
صحيح مسلم
3468
لا شغار في الإسلام
صحيح مسلم
3465
نهى عن الشغار والشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه ابنته وليس بينهما صداق
صحيح مسلم
3467
الشغار
جامع الترمذي
1124
الشغار
سنن أبي داود
2074
الشغار
سنن النسائى الصغرى
3336
الشغار
سنن النسائى الصغرى
3339
الشغار
سنن ابن ماجه
1883
نهى رسول الله عن الشغار والشغار أن يقول الرجل للرجل زوجني ابنتك أو أختك على أن أزوجك ابنتي أو أختي وليس بينهما صداق
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
355
نهى عن الشغار. والشغار ان يزوج الرجل ابنته الرجل على ان يزوجه الرجل الآخر ابنته، ليس بينهما صداق
بلوغ المرام
840
نهى رسول الله عن الشغار،‏‏‏‏ والشغار ان يزوج الرجل ابنته على ان يزوجه الآخر ابنته