🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب ما جاء في الرجل يسلم وعنده عشر نسوة
باب: اگر کوئی مسلمان ہو جائے اور اس کے عقد میں دس بیویاں ہوں تو وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1128
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ، وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ أَرْبَعًا مِنْهُنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ، وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَإِنَّمَا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، مِنْهُمْ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ۱؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اسی طرح اسے معمر نے بسند «الزهري عن سالم بن عبدالله عن ابن عمر» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند «الزهري عن محمد بن سويد الثقفي» روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ۳؎ کی قبر کو پتھر مارے گئے تھے۔
۴- ہمارے اصحاب جن میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 40 (1953)، (تحفة الأشراف: 6949) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غیلان بن سلمہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا جائز نہیں، لیکن اس حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی اور اس میں بہت سی دینی، سیاسی، مصلحتیں کار فرما تھیں آپ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں۔
۳؎: ابورغال کے بارے میں دو مختلف روایتیں ہیں، پہلی روایت یہ ہے کہ یہ طائف کے قبیلہ ثقیف کا یک شخص تھا جس نے ابرہہ کی مکے کی جانب رہبری کی تھی وہ مغمس کے مقام پر مرا اور وہیں دفن کیا گیا اور اس کی قبر پر پتھراؤ کرنا عام رسم بن گئی، دوسری روایت ہے کہ ابورغال قوم ثمود کا وہ واحد شخص تھا جو ہلاکت سے بچ گیا تھا، ثمود کی تباہی کے وقت وہ مکیّ میں مقیم تھا اور اس جگہ کی حرمت کے باعث محفوظ رہا تاہم مکیّ سے نکلنے کے فوراً بعد مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی فوج کے ساتھ الحجر کے مقام سے گزر رہے تھے تو آپ نے یہ بات بیان فرمائی تھی، الأغانی کی ایک حکایت میں ابورغال کو طائف کا بادشاہ اور بنو ثقیف کا جدا مجد بھی بیان کیا گیا ہے، اس کے معاملے میں حافظ ابن قتیبہ اور مسعودی ایسے مصنف ایک اور روایت نقل کرتے ہیں کہ بنو ثقیف ہی نے ابورغال کو جو ایک ظالم اور بے انصاف شخص تھا قتل کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1953)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1128
يتخير أربعا منهن
سنن ابن ماجه
1953
خذ منهن أربعا
بلوغ المرام
860
يتخير منهن اربعا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1128 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1128
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
غیلان بن سلمہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے،
فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔

2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چارسے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا جائز نہیں،
لیکن اس حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے،
آپ کے حرم میں بیک وقت نوبیویاں تھیں،
یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی اوراس میں بہت سی دینی،
سیاسی،
مصلحتیں کارفرما تھیں آپ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں۔

3؎:
ابورغال کے بارے میں دومختلف روایتیں ہیں،
پہلی روایت یہ ہے کہ یہ طائف کے قبیلہ ثقیف کا ایک شخص تھا جس نے ابرہہ کی مکے کی جانب رہبری کی تھی وہ مغمس کے مقام پرمرا اور وہیں دفن کیا گیا اور اس کی قبر پر پتھراؤکرنا عام رسم بن گئی،
دوسری روایت ہے کہ ابورغال قوم ثمود کا وہ واحدشخص تھا جو ہلاکت سے بچ گیا تھا،
ثمود کی تباہی کے وقت وہ مکہ میں مقیم تھااور اس جگہ کی حرمت کے باعث محفوظ رہا تاہم مکہ سے نکلنے کے فوراً بعد مرگیا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی فوج کے ساتھ الحجرکے مقام سے گزررہے تھے تو آپ نے یہ بات بیان فرمائی تھی،
الأغانی کی ایک حکایت میں ابورغال کو طائف کا بادشاہ اوربنوثقیف کا جدامجد بھی بیان کیا گیا ہے،
اس کے معاملے میں حافظ ابن قتیبہ اورمسعودی ایسے مصنف ایک اورروایت نقل کرتے ہیں کہ بنوثقیف ہی نے ابورغال کو جو ایک ظالم اوربے انصاف شخص تھا قتل کیاتھا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1128]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 860
کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان
سیدنا سالم نے اپنے باپ سے بیان کیا کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں۔ ان سب نے غیلان کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیلان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ بخاری، ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اسے معلول کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 860»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، النكاح، باب ما جاء في الرجل يسلم وعنده عشر نسوة، حديث:1128، وابن ماجه، النكاح، حديث:1953، وأحمد:2 /13، 14، 44، 83، وابن حبان (الإحسان):6 /182، حديث:4145، والحاكم: 2 /192، وانظر علل الحديث لابن أبي حاتم:1 /400، الزهري عنعن، وللحديث شواهد ضعيفة.»
تشریح:
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
اور ان محققین کی بحث سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۸ /۲۲۰‘ ۲۲۴‘ و:۹ /۶۹‘ وإرواء الغلیل:۶ /۲۹۱‘ ۲۹۶‘ رقم:۱۸۸۳‘ ۱۸۸۵) 2.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے اور یہ حکم متعدد روایات میں منقول ہے۔
نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں نوبیویاں تھیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص رعایت تھی کیونکہ اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں تھیں۔
اور یہ رعایت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دی تھی‘ اس لیے اس پر اعتراض کرنا سراسر حماقت ہے۔
وضاحت: «حضرت غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ غین پر فتحہ اور یا ساکن ہے۔
ثقیف کے سرداروں میں سے تھے۔
فتح طائف کے بعد اسلام قبول کیا اور ہجرت نہیں کی۔
خوش الحان شاعر تھے۔
خلافت عمر رضی اللہ عنہ میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 860]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1953
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1953]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے انہیں صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الموسوعة الحدیثة مسند الإمام أحمد: 8؍220، 224، و 9؍69 و إرواء الغلیل: 6؍291، 292، رقم: 1883، 1885)
بنا بریں مذکورہ روایتیں سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہیں۔

(2)
اگر کوئی شخص اسلام سے پہلے چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کر چکا ہو تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے چار عورتیں نکاح میں رکھنے کا حق ہے۔
باقی عورتوں کو طلاق دینا ضروری ہے۔

(3)
چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں ہونے کی صورت میں مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جونسی چار عورتیں پسند کرے، انہیں نکاح میں رکھ لے۔
اس میں یہ شرط نہیں کہ جن سے پہلے نکاح ہوا ہو انہیں رکھا جائے یا بعد والیوں کو رکھا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1953]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1128 in Urdu