🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء في الخلع
باب: خلع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ ".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خلع لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا (یا انہیں حکم دیا گیا) کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ربیع کی حدیث کہ انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا گیا صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15835) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2058)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصاريةصحابي
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← الربيع بنت معوذ الأنصارية
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن القرشي
Newمحمد بن عبد الرحمن القرشي ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن عبد الرحمن القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← سفيان الثوري
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3527
أمرها رسول الله أن تتربص حيضة واحدة فتلحق بأهلها
جامع الترمذي
1185
اختلعت على عهد النبي فأمرها النبي أن تعتد بحيضة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1185
اختلعت من زوجها على عهد النبي فأمرها النبي أن تعتد بحيضة
سنن أبي داود
2229
اختلعت منه فجعل النبي عدتها حيضة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1185M
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَغْدَادِيُّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ، فَقَالَ: أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ، قَالَ إِسْحَاق: وَإِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ إِلَى هَذَا فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے شوہر سے خلع لیا ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حیض عدت گزار نے کا حکم دیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- «مختلعہ» (خلع لینے والی عورت) کی عدت کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت وہی ہے جو مطلقہ کی ہے، یعنی تین حیض۔ یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں،
۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت ایک حیض ہے،
۴- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس مذہب کو اختیار کرے تو یہ قوی مذہب ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1185M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15835) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «خلع» : «خلع الثوب» سے ماخوذ ہے، جس کے معنی لباس اتارنے کے ہیں، شرعی اصطلاح شرع میں عورت کا مہر میں دیا ہوا مال واپس دے کر شوہر سے علاحدگی اختیار کر لینے کو «خلع» کہتے ہیں۔
۲؎: باب کی حدیث اسی قول کی تائید کرتی ہے کہ «خلع» طلاق نہیں فسخ ہے اور «مختلعہ» کی عدت ایک حیض ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ «خلع» فسخ نہیں طلاق ہے وہ کہتے ہیں کہ «مختلعہ» کی عدت وہی ہے جو مطلقہ کی عدت ہے۔ راجح قول پہلا ہی ہے جو ان دونوں حدیثوں کے موافق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2058)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن مسلم اليماني
Newعمرو بن مسلم اليماني ← عكرمة مولى ابن عباس
مقبول
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عمرو بن مسلم اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥علي بن بحر القطان، أبو الحسن
Newعلي بن بحر القطان ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحيم القرشي، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الرحيم القرشي ← علي بن بحر القطان
ثقة حافظ أمين