🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب ما جاء أن المستحاضة تتوضأ لكل صلاة
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: " تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي ".
عدی کے دادا عبید بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا: وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے، پھر وہ غسل کرے، اور (استحاضہ کا خون آنے پر) ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 113 (397)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 115 (625)، (تحفة الأشراف: 3542)، سنن الدارمی/الطہارة 83 (820) (صحیح) (اس کی سند میں ابو الیقظان ضعیف، اور شریک حافظہ کے کمزور ہیں، مگر دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (625)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 257 ، جه 625
أبو اليقظان ضعیف مدلس (د297) وللحديث شواهد ضعیفة .

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أميةصحابي صغير
👤←👥ثابت الأنصاري
Newثابت الأنصاري ← عبد الله بن يزيد الأوسي
مجهول الحال
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← ثابت الأنصاري
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥عثمان بن عمير البجلي، أبو اليقظان
Newعثمان بن عمير البجلي ← عدي بن ثابت الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← عثمان بن عمير البجلي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
126
تدع الصلاة أيام أقرائها التي كانت تحيض فيها ثم تغتسل وتتوضأ عند كل صلاة وتصوم وتصلي
سنن أبي داود
297
تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتصلي والوضوء عند كل صلاة
سنن ابن ماجه
625
تدع الصلاة أيام أقرائها ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة وتصوم وتصلي
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 126 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 126
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کی سند میں ابو الیقظان ضعیف،
اور شریک حافظہ کے کمزور ہیں،
مگر دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 126]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 297
مستحاضہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے پھر جب دوسرے حیض سے پاک ہو تو غسل کرے (یعنی استحاضہ کے خون میں وضو ہے غسل نہیں ہے)۔
عدی بن ثابت کے دادا ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے ۲؎۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اور روزے رکھے، اور نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 297]
297۔ اردو حاشیہ:
اور یہی بات دلائل کے اعتبار سے قوی ہے اور جمہور اسی کے قائل ہیں اور دیگر احادیث کہ ہر نماز کے لیے غسل یا دو نمازوں کے لیے غسل، یہ سب استحباب کے معنی میں ہے۔ یعنی اس عمل کو نفل، مستحب اور باعث اجر و ثواب سمجھا جانا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 297]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث625
مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان۔
عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور روزے رکھے اور نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 625]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہےالبتہ دیگر شواہد کی بناء پر صحیح ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الأرواء، حدیث: 207)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 625]

حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ابی داود 297
«وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ»
اور ہر نماز کے لیے وضوء کرے گی۔
(1) حضرت عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنے ان ایام ماہواری میں نماز ترک کرے گی جن میں وہ (پہلے) حائضہ ہوتی تھی۔
«ثم تغتسل وتتوضأ عند كل صلاة»
پهر وه غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضوء کرے گی۔
[صحيح: صحيح ترمذي 109 كتاب الطهارة: باب ما جاء أن المستحاضة تتوضأ لكل صلاة، ترمذى 126 أبو داود 297 ابن ماجة 625 دارمي 202/1]
(2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا:
«ثم اغتسلي وتوضئ لكل صلاة ثم صلى»
(ایام حیض گزارنے کے بعد) غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو پھر نماز ادا کرو۔
[صحيح: صحيح أبو داود 287 كتاب الطهارة: باب من قال تغتسل من طهر إلى طهر، أبو داود 298 أحمد 42/6 ابن ماجة 624 نسائي 185/1]
امام شوکانی رقمطراز ہیں کہ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ (مستحاضہ عورت پر) ہر نماز کے لیے وضوء واجب ہے اور غسل صرف ایک مرتبہ حیض کے اختتام پر ہی واجب ہے۔ [نيل الأوطار 404/1]
(مالکیہ) مستحاضہ عورت پر اسی طرح ہر نماز کے لیے وضوء مستحب ہے جیسا کہ استحاضہ کے خون کے اختتام پر اس کے لیے غسل مستحب ہے۔
[بداية المجتهد 57/1 القوانين الفقهية ص/26-41]
(جمہور، شافعیہ، حنابلہ حنفیہ) مستحاضہ عورت پر واجب ہے کہ وہ ہر نماز کا وقت ہو جانے پر اپنی شرمگاہ دھوئے اور پھر وضوء کرے۔
[اللباب 51/1 مراقي الفلاح ص 25 مغني المحتاج 1/1 مهذب 45/1 المغنى 340/1]
حضرت علی، حضرت ابن مسعود حضرت عائشہ حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی قول مروی ہے جبکہ حضرت ابن عمر، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم اور امام عطا بن ابی رباح وغیرہ سے اس کے برخلاف یہ منقول ہے کہ مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔
[تحفة الأحوذي 425/1]
ہر نماز کے لیے غسل کو واجب کہنے والوں کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے:
حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ کے خون کے متعلق مسئلہ پوچھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا یہ تو صرف ایک رگ ہے:
«فاغتسلى ثم صلى فكانت تغتسل لكل صلاة»
لہذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کر لیتی تھیں۔
[ترمذى 129 كتاب الطهارة: باب ما جاء فى المستحاضة أنها تغتسل عند كل صلاة، مسلم 334 أحمد 237/6 أبو داود 285 ابن ماجة 626 نسائي 118/1 دارمي 196/1]
اگرچہ انہوں نے اس حدیث سے استدلال تو کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث وجوب کے قائل حضرات کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ اس میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا ہے بلکہ یہ محض حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا اپنا فعل و عمل ہے جو کہ مسلمہ قوانین کے مطابق وجوب کے لیے کافی نہیں ہے۔
(نووی) وہ احادیث جو سنن ابی داود اور بیھقی وغیرہ میں موجود ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔ اور امام بیھقی وغیرہ نے تو ان کے ضعف کو واضح کر کے بیان کر دیا ہے۔ [المجموع 536/2]
(شوکانیؒ) ان احادیث کے متعلق کہ جن میں مستحاضہ عورت کے لیے غسل کا حکم ہے حفاظ کی ایک جماعت نے صراحت کی ہے کہ وہ قابل احتجاج نہیں ہیں۔ [نيل الأوطار 149/1]
(شافعیؒ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو غسل کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا اس میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا۔ [الأم 80/1]
(راجع) استحاضہ کی بیماری میں مبتلا عورت پر ہر نماز کے لیے غسل نہیں بلکہ صرف وضوء واجب ہے اور غسل صرف ایک مرتبہ ایام ماہواری کے اختتام پر ہی واجب ہے۔
[شرح مسلم للنووي 257/2، المجموع 535/2، نيل الأوطار 404/1، السيل الجرار 148/1، الروضة الندية 188/1]
(شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ) انہوں نے اس کے مطابق فتوی دیا ہے۔ [فتاوى المرأة المسلمة 291/1]
واضح رہے کہ اگر مستحاضہ عورت دو نمازوں کو اس طرح جمع کرے کہ پہلی کو مؤخر اور دوسری کو مقدم کرے اور پھر دونوں کے لیے ایک غسل کرے یعنی ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل اور فجر کے لیے ایک غسل، تو یہ عمل مندوب و مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند فرمایا ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ مروی ہیں كه «وهو أعجب الأمرين إلى» ان دونوں باتوں میں سے یہی مجھے زیادہ پسند ہے۔
[حسن: صحيح أبو داود 267، كتاب الطهارة: باب من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، أبو داود 287، ترمذي 128 أحمد 381/6، الأدب المفرد للبخارى 237، ابن ماجة 627]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 276
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 276]