🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما جاء في الرجل يقتل ابنه يقاد منه أم لا
باب: آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1400
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 22 (2662)، (تحفة الأشراف: 10582)، و مسند احمد (1/16، 23) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ”حجاج بن ارطاة متکلم فیہ راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2662)
قال الشيخ زبير على زئي:(1400) إسناده ضعيف /جه 2662
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (تقدم :527) وتابعه محمد بن عجلان وھو مدلس مشھور (تقدم: 1084)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمرو السهمي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← الحجاج بن أرطاة النخعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1400
لا يقاد الوالد بالولد
سنن ابن ماجه
2662
لا يقتل الوالد بالولد
بلوغ المرام
997
لا يقاد الوالد بالولد
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1400 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1400
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے،
لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔

نوٹ:
(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ حجاج بن ارطاۃ متکلم فیہ راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1400]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 997
(جنایات کے متعلق احادیث)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اسے احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن جارود اور بیہقی نے صحیح قرار دیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اضطراب ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 997»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الديات، باب ما جاء في الرجل يقتل ابنه يقاد منه أم لا، حديث:1400، وأحمد:1 /16، 22، وابن ماجه، الديات، حديث:2662، والبيهقي:8 /82، وانظر، التلخيص الحبير(4 /17).»
تشریح:
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی وجہ سے حسن اور صحیح قرار دیا ہے اور انھی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے‘ لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱ /۱۶‘ ۲۲‘ ۴۹‘ والإرواء:۷ /۲۷۱‘ رقم:۲۲۱۴) 2.مذکورہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ آدمی نے جب اپنے بیٹے کو قتل کر دیا تو اس کے بدلے میں باپ کو قتل نہیں کیا جائے گا‘ البتہ دوسری مناسب سزا ضروری ہے، جیسا کہ موطا امام مالک (۲ /۸۶۷) اور سنن ابن ماجہ (حدیث: ۲۶۴۶) کی روایات میں دیت لینے کا ذکر ہے۔
اکثر سلف کی بھی یہی رائے ہے کہ قصاص کے بدلے میں باپ سے دیت وصول کی جائے گی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 997]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2662
باپ کو اپنی اولاد کے بدلے قتل نہ کرنے کا بیان۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2662]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے حسن اور صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد: 1؍16، 22، 49، والإرواء: 7؍271، رقم: 2214، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، رقم: 2662)
بنا بریں ماں باپ کے ہاتھ سے اگر اولاد قتل ہوجائے توماں یا باپ کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ دوسری مناسب سزا ضروری ہے جیسے کہ حدیث 2646 میں دیت لینے کا ذکر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2662]