سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في كراهية أكل المصبورة
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 1473
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ: وَهِيَ الَّتِي تُصْبَرُ بِالنَّبْلِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ , وَأَنَسٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے،
۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1473]
۱- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے،
۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مصبورہ» : وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہو، ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2391)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1473
| نهى رسول الله عن أكل المجثمة وهي التي تصبر بالنبل |
مسندالحميدي |
401
| نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل نهبة، وعن كل خطفة خطفه، وعن المجثمة، وعن كل ذي ناب من السبع |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1473 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1473
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مصبورہ:
وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہو،
ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے،
کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔
وضاحت:
1؎:
مصبورہ:
وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہو،
ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے،
کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1473]
سعيد بن المسيب القرشي ← عويمر بن مالك الأنصاري