🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء في أهل الذمة يغزون مع المسلمين هل يسهم لهم
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1558
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ، لَحِقَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَذْكُرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَسْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " ارْجِعْ، فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا يُسْهَمُ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِنْ قَاتَلُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ الْعَدُوَّ، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنْ يُسْهَمَ لَهُمْ إِذَا شَهِدُوا الْقِتَالَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ. (حديث مرفوع) وَيُرْوَى عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْهَمَ لِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ قَاتَلُوا مَعَهُ "، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ۱؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- حدیث میں اس سے بھی زیادہ کچھ تفصیل ہے،
۲- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ ذمی کو مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہمراہ دشمن سے جنگ کریں،
۴- کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ جب ذمی مسلمانوں کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کو حصہ دیا جائے گا،
۵- زہری سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی ایک جماعت کو حصہ دیا جو آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجہاد 51 (1817)، سنن ابی داود/ الجہاد 153 (2732)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 27 (2832)، (تحفة الأشراف: 16358)، وسنن الدارمی/السیر54 (2538) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ سے چار میل کی دوری پر ہے۔
۲؎: بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی بہادری و جرات مندی اس قدر مشہور تھی کہ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہو گئے، پھر اس نے خود ہی صراحت کر دی کہ میں صرف اور صرف مال غنیمت میں حصہ لینے کی خواہش میں شریک ہو رہا ہوں، پھر اس نے جب ایمان نہ لانے کی صراحت کر دی تو آپ نے اس کا تعاون لینے سے انکار کر دیا۔ پھر بعد میں اس نے ایمان کا اقرار کیا اور آپ کی اجازت سے شریک جنگ ہوا، یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔ ایک جماعت کا یہ خیال ہے کہ مدد لینا جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت مدد لی جا سکتی ہے جیسا کہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اسی طرح بنو قینقاع کے یہود یوں سے بھی مدد لی تھی، بہرحال اسلحہ اور افرادی امداد دونوں کی شدید ضرورت و حاجت کے موقع پر لینے کی گنجائش ہے۔
قال الشيخ الألباني: (حديث عائشة) صحيح، (حديث الزهري) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (2832)
قال الشيخ زبير على زئي:(1558) إسناده ضعيف
حديث الزھري: ” أن النبى صلى الله عليه وسلم أسھم لقوم من اليھود “ إلخ ضعيف لإرساله والحديث الباقي: ارجع فلن أستعين بمشرك ، كله صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عزرة بن ثابت الأنصاري
Newعزرة بن ثابت الأنصاري ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← عزرة بن ثابت الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← قتيبة بن سعيد الثقفي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥عبد الله بن نيار الأسلمي
Newعبد الله بن نيار الأسلمي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥الفضيل بن أبي عبد الله المعمري
Newالفضيل بن أبي عبد الله المعمري ← عبد الله بن نيار الأسلمي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← الفضيل بن أبي عبد الله المعمري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن موسى الأنصاري، أبو موسى
Newإسحاق بن موسى الأنصاري ← معن بن عيسى القزاز
ثقة متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1558
أسهم لقوم من اليهود قاتلوا معه
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4700
جئت لأتبعك وأصيب معك قال له رسول الله تؤمن بالله ورسوله قال لا قال فارجع فلن أستعين بمشرك قالت ثم مضى حتى إذا كنا بالشجرة أدركه الرجل فقال له كما قال أول مرة فقال له النبي كما قال أول مرة قال فارجع فلن أستعين بمشرك قال ثم رجع فأدركه بالبيداء فقال له كما ق
جامع الترمذي
1558
ألست تؤمن بالله ورسوله قال لا قال ارجع فلن أستعين بمشرك
سنن أبي داود
2732
لا نستعين بمشرك
سنن ابن ماجه
2832
لا نستعين بمشرك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1558 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1558
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مدینہ سے چار میل کی دوری پر ہے۔

2؎:
بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی بہادری وجرأتمندی اس قدر مشہور تھی کہ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہوگئے،
پھر اس نے خود ہی صراحت کردی کہ میں صرف اور صرف مال غنیمت میں حصہ لینے کی خواہش میں شریک ہو رہا ہوں،
پھر اس نے جب ایمان نہ لانے کی صراحت کردی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تعاون لینے سے انکار کردیا۔
پھر بعد میں اس نے ایمان کا اقرار کیا اور آپ کی اجازت سے شریک جنگ ہوا،
یہاں پھر یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔
ایک جماعت کایہ خیال ہے کہ مدد لینا جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت مدد لی جاسکتی ہے جیساکہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اسی طرح بنو قینقاع کے یہود یوں سے بھی مددلی تھی،
بہر حال اسلحہ اور افرادی امداد دونوں کی شدید ضرورت وحاجت کے موقع پر لینے کی گنجائش ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1558]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1558 in Urdu