سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في كراهية بيع المغانم حتى تقسم
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1563]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/التجارات 24 (2196)، (فی سیاق الحول من ذلک) (تحفة الأشراف: 4073) (ضعیف) (سند میں ”محمد بن ابراہیم الباہلی، اور ”محمد بن زید العبدی“ دونوں مجہول راوی ہیں، اور ”جہضم“ میں کلام ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4015 - 4016 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبير على زئي:(1563) إسناده ضعيف / جه 2196
محمد بن إبراھيم الباھلي مجھول (تق:5703) وفي شيخه نظر و لبعض الحديث شواھد
محمد بن إبراھيم الباھلي مجھول (تق:5703) وفي شيخه نظر و لبعض الحديث شواھد
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1563
| شراء المغانم حتى تقسم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1563 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1563
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ”محمد بن ابراہیم الباہلی“،
اور”محمد بن زید العبدی“ دونوں مجہول راوی ہیں،
اور ”جہضم“ میں کلام ہے)
نوٹ:
(سند میں ”محمد بن ابراہیم الباہلی“،
اور”محمد بن زید العبدی“ دونوں مجہول راوی ہیں،
اور ”جہضم“ میں کلام ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1563]
شهر بن حوشب الأشعري ← أبو سعيد الخدري