سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما جاء في العمامة السوداء
باب: سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَابْنِ حُرَيْثٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَرُكَانَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1735]
اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن ابی داود/ اللباس 24 (4076)، سنن النسائی/الحج 107 (2872)، والزینة 109 (5346)، سنن ابن ماجہ/الجہاد22 (2822)، واللباس 14 (2585)، (تحفة الأشراف: 2689)، و مسند احمد (3/363، 387) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتا ہے، مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے، کیونکہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے، اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2822)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← محمد بن مسلم القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3309
| دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء بغير إحرام |
صحيح مسلم |
3310
| دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء |
جامع الترمذي |
1735
| عليه عمامة سوداء |
سنن أبي داود |
4076
| دخل عام الفتح مكة وعليه عمامة سوداء |
سنن ابن ماجه |
2822
| دخل مكة وعليه عمامة سوداء |
سنن ابن ماجه |
3585
| دخل مكة وعليه عمامة سوداء |
المعجم الصغير للطبراني |
584
| دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء |
المعجم الصغير للطبراني |
603
| دخل مكة يوم الفتح وعلى رأسه عمامة سوداء |
سنن النسائى الصغرى |
2872
| دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء بغير إحرام |
سنن النسائى الصغرى |
5346
| دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء بغير إحرام |
سنن النسائى الصغرى |
5347
| دخل النبي يوم الفتح وعليه عمامة سوداء |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1735 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1735
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتاہے،
مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے،
کیوں کہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے،
اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتاہے،
مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے،
کیوں کہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے،
اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1735]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2872
مکہ میں بغیر احرام باندھے داخل ہونے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2872]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2872]
اردو حاشہ:
”احرام کے بغیر“ احناف اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خصوصی اجازت سمجھتے ہیں مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ احادیث میں قتل کے سلسلے میں تو خصوصی اجازت کا ذکر ہے مگر احرام کے سلسلے میں نہیں۔ (باقی تفصیلات کے لیے دیکھیے روایت نمبر: 2870)
”احرام کے بغیر“ احناف اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خصوصی اجازت سمجھتے ہیں مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ احادیث میں قتل کے سلسلے میں تو خصوصی اجازت کا ذکر ہے مگر احرام کے سلسلے میں نہیں۔ (باقی تفصیلات کے لیے دیکھیے روایت نمبر: 2870)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2872]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5346
کالے رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5346]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5346]
اردو حاشہ:
”احرام کے بغیر“ کیونکہ احرام میں سر ڈھانپنا منع ہے۔ معلوم ہوا اگر کوئی شخص حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو، کسی اور کام سے مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہو اور وہ میقات سے باہر رہتا ہو تو اسے میقات سے گزرتے وقت احرام باندھنا ضروری نہیں۔ احناف نے یہاں سختی برتی ہے کہ جو بھی شخص مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہو اور وہ میقات سے باہر رہتا ہو تو میقات سے گزرتے وقت اس کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے۔ حج یا عمرے کا ارادہ ہو یا نہ۔ اس حدیث کو وہ آپ کا خاصہ بناتے ہیں مگر یہ بات کمزور ہے۔ اور صریح احادیث کے خلاف ہے کیونکہ صحیح احادیث میں یہ صراحت ہے کہ میقات اس شخص کے لیے ہیں جو حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مختلف اطراف سے مکہ معظمہ آنے والے مختلف لوگوں کے لیے میقات (احرام باندھنے کی جگہیں) مقرر فرمائیں تو ارشاد فرمایا: [فَهُنَّ لهنَّ ولِمَن أتى عليهنَّ، مِن غيرِ أهْلِهِنَّ مِمَّنْ كانَ يُرِيدُ الحَجَّ والعُمْرَةَ ] ”يہ میقات ان علاقوں کے باسیوں کے لیے ہیں، نیز ان لوگوں کے لیے بھی جو کسی دوسری جگہ سے آتے ہیں، ان علاقوں کے باسی نہیں۔ (یہ میقات) ہر اس شخص کے لیے جو حج و عمرے کا ارادہ کرتا ہے۔“ (صحيح البخاري، الحج، باب مهل أهل الشام، حديث:1526، وصحيح مسلم، الحج، باب مواقيت الحج، حديث: 1181) معلوم ہوا اگر کوئی شخص حج و عمرہ نہ کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ میقات بھی نہیں اور نہ اس کے لیے یہاں گزرتے ہوئے احرام باندھنا ضروری ہے۔
”احرام کے بغیر“ کیونکہ احرام میں سر ڈھانپنا منع ہے۔ معلوم ہوا اگر کوئی شخص حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو، کسی اور کام سے مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہو اور وہ میقات سے باہر رہتا ہو تو اسے میقات سے گزرتے وقت احرام باندھنا ضروری نہیں۔ احناف نے یہاں سختی برتی ہے کہ جو بھی شخص مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہو اور وہ میقات سے باہر رہتا ہو تو میقات سے گزرتے وقت اس کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے۔ حج یا عمرے کا ارادہ ہو یا نہ۔ اس حدیث کو وہ آپ کا خاصہ بناتے ہیں مگر یہ بات کمزور ہے۔ اور صریح احادیث کے خلاف ہے کیونکہ صحیح احادیث میں یہ صراحت ہے کہ میقات اس شخص کے لیے ہیں جو حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مختلف اطراف سے مکہ معظمہ آنے والے مختلف لوگوں کے لیے میقات (احرام باندھنے کی جگہیں) مقرر فرمائیں تو ارشاد فرمایا: [فَهُنَّ لهنَّ ولِمَن أتى عليهنَّ، مِن غيرِ أهْلِهِنَّ مِمَّنْ كانَ يُرِيدُ الحَجَّ والعُمْرَةَ ] ”يہ میقات ان علاقوں کے باسیوں کے لیے ہیں، نیز ان لوگوں کے لیے بھی جو کسی دوسری جگہ سے آتے ہیں، ان علاقوں کے باسی نہیں۔ (یہ میقات) ہر اس شخص کے لیے جو حج و عمرے کا ارادہ کرتا ہے۔“ (صحيح البخاري، الحج، باب مهل أهل الشام، حديث:1526، وصحيح مسلم، الحج، باب مواقيت الحج، حديث: 1181) معلوم ہوا اگر کوئی شخص حج و عمرہ نہ کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ میقات بھی نہیں اور نہ اس کے لیے یہاں گزرتے ہوئے احرام باندھنا ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5346]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2822
جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2822]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2822]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پگڑی باندھنا مسنون ہے۔
(2)
سیاہ پگڑی پہننا جائز ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
پگڑی باندھنا مسنون ہے۔
(2)
سیاہ پگڑی پہننا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2822]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري