🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء في صلة الرحم
باب: صلہ رحمی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے ۱؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے۔‏‏‏‏
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سلمان، عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 15 (5991)، سنن ابی داود/ الزکاة 45 (1697) (تحفة الأشراف: 8915)، و مسند احمد (2/163، 190، 193) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سند میں ابوالرداد ہے، اور امام ترمذی کے کلام میں نیچے رداد آیا ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ رداد کو بعض لوگوں نے ابوالرداد کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے، (تقریب التہذیب)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح غاية المرام (404) ، صحيح أبي داود (1489)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥فطر بن خليفة المخزومي، أبو بكر
Newفطر بن خليفة المخزومي ← مجاهد بن جبر القرشي
صدوق رمي بالتشيع
👤←👥بشير بن سلمان النهدي، أبو إسماعيل
Newبشير بن سلمان النهدي ← فطر بن خليفة المخزومي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← بشير بن سلمان النهدي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5991
ليس الواصل بالمكافئ ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها
جامع الترمذي
1908
ليس الواصل بالمكافئ ولكن الواصل الذي إذا انقطعت رحمه وصلها
سنن أبي داود
1697
ليس الواصل بالمكافئ ولكن هو الذي إذا قطعت رحمه وصلها
مسندالحميدي
602
الراحمون يرحمهم الرحمن، ارحموا أهل الأرض يرحمكم أهل السماء
مسندالحميدي
605
ليس الواصل بالمكافئ، ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1908 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1908
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
یعنی صلہ رحمی کی جائے تو صلہ رحمی کرے اور قطع رحمی کیاجائے تو قطع رحمی کرے،
یہ کوئی صلہ رحمی نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1908]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1697
رشتے داروں سے صلہ رحمی (اچھے برتاؤ) کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1697]
1697. اردو حاشیہ: محض ادلے بدلے میں اجر نہیں۔لیکن اگر للہ فی اللہ بدلہ دے۔تو ان شاء اللہ ماجور اور فضیلت کا کام ہے <قرآن>۔(هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ)(الرحمٰن۔60) اور صلہ رحمی پر جس اجر فضیلت کا وعدہ کیا گیا ہے۔وہ اس صورت میں ہے کہ جب بندہ جب بنیادی طور پر اللہ پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل سے موصوف ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1697]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:605
605- سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بدلہ دینے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہوتا۔ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے، جب اس کے رشتے کے حق کو پامال کیا جائے تو وہ اس وقت رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:605]
فائدہ:
اس حدیث میں صلۂ رحمی کی تعریف کی گئی ہے کہ صیح معنوں میں صلۂ رحمی اس کو کہتے ہیں کہ کوئی آپ کی مخالفت کرے اور آپ اس کے ساتھ صلۂ رحمی کریں۔ انتقام نہ لیا جائے، بدلہ نہ لیا جائے، مخالفت کی وجہ سے جنگ و جدل کا میدان گرم نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ نرمی والا معاملہ کیا جائے۔ اللہ کی قسم! اس کی وجہ سے مخالف کی تمام سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور وہ آپ کا حقیقی دوست بن جائے گا، ان شاء اللہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 605]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5991
5991. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب اس کےساتھ صلہ رحمی والا ختم کر دیا جائے وہ پھر بھی صلہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5991]
حدیث حاشیہ:
کمال اس کا نام جو حدیث میں مذکور ہوا۔
رشتہ دار اگر نہ ملے تو تم اس سے ملنے میں سبقت کرو بعد میں وہ تمہارا ولی حمیم گاڑھا دوست بن جائے گا جیسے کہ تجربہ شاہد ہے۔
حضرت اعمش بن سلیمان سنہ60 ھ میں سر زمین رے میں پیدا ہوئے پھر کوفے میں لائے گئے علم حدیث میں بہت مشہور ہیں۔
اکثر کوفیوں کی روایت کامدار ان ہی پر ہے۔
سنہ128ھ میں فوت ہوئے۔
رحمه اللہ تعالیٰ آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5991]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5991
5991. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب اس کےساتھ صلہ رحمی والا ختم کر دیا جائے وہ پھر بھی صلہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5991]
حدیث حاشیہ:
اگرچہ بدلہ دینا بھی صلہ رحمی کی ہی قسم ہے، تاہم کامل صلہ رحمی یہی ہے کہ رشتے دار اگر نہ بھی ملے پھر بھی اس کے ساتھ رحم کا تعلق قائم رکھا جائے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دشمن بھی گہرا دوست بن جاتا ہے لیکن ایسا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسا کام تو بہت بڑے حوصلے والا کرسکتا ہے ہاں اگر کوئی رشتے دار صلہ رحمی کرتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہ دینا بلکہ قطع رحمی پر جمے رہنا بہت سنگین جرم ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5991]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1908 in Urdu