🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب ما جاء في أدب الولد
باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1952
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ وَهُوَ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.
عمرو بن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں،
۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں،
۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4473) (ضعیف) (سند میں ”عامر بن صالح“ حافظہ کے کمزور ہیں، اور ”موسی بن عمرو“ مجہول الحال)»
وضاحت: ۱؎: اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «ایوب» ہیں تو ان کے دادا «عمرو بن سعید الأشرق» صحابی نہیں ہیں، اور اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «موسیٰ» ہیں تو ان کے دادا «سعید بن العاص» بہت چھوٹے صحابی ہیں، ان کا سماع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے، تب یہ روایت مرسل صحابی ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الضعيفة (1121) ، نقد الكتاني ص (20) // ضعيف الجامع الصغير (5227) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1952) إسناده ضعيف
موسي بن عمرو بن سعيد أبو أيوب مستور (تق: 6995)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن العاص الأموي، أبو عثمان، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥موسى بن عمرو القرشي
Newموسى بن عمرو القرشي ← سعيد بن العاص الأموي
مقبول
👤←👥أيوب بن موسى القرشي، أبو موسى
Newأيوب بن موسى القرشي ← موسى بن عمرو القرشي
ثقة
👤←👥عامر بن أبي عامر المزني، أبو عاصم، أبو بكر
Newعامر بن أبي عامر المزني ← أيوب بن موسى القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← عامر بن أبي عامر المزني
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1952
ما نحل والد ولدا من نحل أفضل من أدب حسن
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1952 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1952
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اگر جدہ کی ضمیر کا مرجع ایوب ہیں تو ان کے دادا عمرو بن سعید الأشرق صحابی نہیں ہیں،
اور اگر جدہ کی ضمیر کا مرجع موسیٰ ہیں تو ان کے دادا سعید بن العاص بہت چھوٹے صحابی ہیں،
ان کا سماع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے،
تب یہ روایت مرسل صحابی ہوئی۔

نوٹ:
(سند میں عامر بن صالح حافظہ کے کمزور ہیں،
اور موسی بن عمرو مجہول الحال)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1952]