🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء في الدواء والحث عليه
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَتْ الْأَعْرَابُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، أَوْ قَالَ: دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْهَرَمُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں (بدوؤں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماریوں کا) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: بڑھاپا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، «ابو خزامہ عن أبیہ»، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطب 1 (3855)، سنن ابن ماجہ/الطب 1 (3436) (تحفة الأشراف: 127) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے، لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے پناہ مانگتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ علاج و معالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3436)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن شريك الذبيانيصحابي
👤←👥زياد بن علاقة الثعلبي، أبو مالك
Newزياد بن علاقة الثعلبي ← أسامة بن شريك الذبياني
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← زياد بن علاقة الثعلبي
ثقة ثبت
👤←👥بشر بن معاذ العقدي، أبو سهل
Newبشر بن معاذ العقدي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2038
تداووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له شفاء أو قال دواء إلا داء واحدا قالوا يا رسول الله وما هو قال الهرم
سنن أبي داود
3855
تداووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء واحد الهرم
سنن ابن ماجه
3436
تداووا عباد الله فإن الله سبحانه لم يضع داء إلا وضع معه شفاء إلا الهرم ما خير ما أعطي العبد قال خلق حسن
مسندالحميدي
845
عباد الله، وضع الله الحرج إلا من اقترض من عرض أخيه شيئا فذلك الذي حرج وهلك
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2038 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2038
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے،
لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں،
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے پناہ مانگتے تھے،
یہ بھی معلوم ہواکہ علاج ومعالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2038]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3855
دوا علاج کرانے کے حکم کا بیان۔
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3855]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج کروانے کی تلقین فرمائی ہے یہ علاج کرنا کروانا توکل کے خلاف نہیں اورخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی علاج کروایا۔
2) بڑھاپا زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے جس میں قویٰ مضحمل ہو جاتے ہیں ا گر بڑھاپا طاری ہو جائے تواس کو واپس نہیں کیا جا سکتا انسان کو بوقت ضرورت ادویہ کا استعمال کرنا چاہیئے تا کہ وہ بالکل ہی عاجز نہ ہو جائے۔
3 صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں انتہائی پر سکون ہو کر بیٹھتے تھے اور یہی ادب طلبہ علم کے لیئے ہے کہ اپنے اساتذہ کے سامنے باادب ہو کر بیٹھا کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3855]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3436
اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو۔
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3436]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کا مظہر ہے کہ آپ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کے نامناسب رویے کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے۔

(2)
اسلام کے احکام انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔
اس لئے ان میں ایک طرح کی سہولت موجود ہے۔

(3)
عزت میں سے حصہ کاٹنے کامطلب ہے کہ اس کی آبرو ریزی کی یا ایسا کام کیا یا ایسی بات کہی جس سے اس کی عزت میں فرق آئے۔

(4)
بیماری کا علاج کرانا بھی جائز اسباب میں سے ہے۔
جنھیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں
(5)
ہر بیماری کا علاج موجو د ہے۔
یہ انسان کی محنت سمجھ اور توجہ پر مبنی ہے کہ مریض بیماری کوسمجھے اور مناسب دوا کاانتخاب کرے۔

(6)
بچپن کے بعد جوانی اور جوانی کے بعد بوڑھاپا اللہ کا بنایا ہوا مستقل نظام ہے۔
اس لئے یہ اپنے وقت پر آتا ہی ہے۔
انسان کو جوانی کی قوتوں سے محروم ہونے سے پہلے نیکیاں کرلینی چاہیے۔
تاکہ بڑھاپے میں حسرت وندامت نہ ہو۔

(7)
خوش اخلاقی انسان کی ایسی خوبی ہے۔
جس سے دنیا میں بھی فائدہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس لئے یہ اللہ کاعظیم احسان ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3436]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2038 in Urdu