سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في السعوط وغيره
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ "، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ أَصْحَابُهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: لُدُّوهُمْ، قَالَ: فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» (ناک میں ڈالنے والی دوا)، «لدود» (منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا)، «حجامة» (پچھنا لگانا حجامہ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: ”موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو“، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم 1757 (لم یذکرہ المزي بھذا اللفظ، وإنما ذکرہ بلفظ ما مضی برقم 1757 (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4473 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبير على زئي:(2047 ،2048) إسناده ضعيف
عباد بن منصور : ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
عباد بن منصور : ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2048
| خير ما تداويتم به اللدود والسعوط والحجامة والمشي خير ما اكتحلتم به الإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر |
جامع الترمذي |
2053
| خير ما تداويتم به السعوط واللدود والحجامة والمشي |
جامع الترمذي |
2047
| خير ما تداويتم به السعوط واللدود والحجامة والمشي |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2047 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2047
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2047]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2053
پچھنا لگوانے کا بیان۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ (فاسد) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2053]
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ (فاسد) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2053]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
نوٹ:
(سندمیں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2053]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2047 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي